کیا دعوت دین کا آغاز توحید سے ہونا چاہیے؟

جی، دعوتِ دین کا آغاز ہمیشہ توحید سے ہونا چاہیے۔ یہی انبیاء علیہم السلام کی سنت ہے اور اسی پر قرآن کی تعلیمات قائم ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ
اور ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجا، اس کی طرف یہی وحی کی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، پس میری ہی عبادت کرو۔
(الأنبياء: 25)

نبی کریم ﷺ نے بھی اپنی دعوت کا آغاز اسی بنیاد سے کیا۔ معاذ بن جبلؓ کو یمن بھیجتے ہوئے ارشاد فرمایا

فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَى أَنْ يُوَحِّدُوا اللهَ تَعَالَى
سب سے پہلی چیز جس کی طرف تم انہیں بلاؤ، وہ اللہ کی توحید ہو۔
صحيح البخاري – كتاب التوحيد – باب ما جاء في دعاء النبي أمته إلى توحيد الله: 7372

لہٰذا دعوت کا پہلا اور بنیادی پیغام یہی ہے کہ لوگ صرف اللہ کو معبود مانیں، اسی سے مانگیں، اور اسی کے حکم کے تابع ہوں۔ اگر توحید درست نہ ہو تو باقی اعمال بھی اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ہوتے۔

تلاش کریں