کیا صرف نیت سے عمل درست ہو جاتا ہے؟

نہیں، صرف نیت سے عمل درست نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے ساتھ عمل کا شریعت کے مطابق ہونا بھی ضروری ہے۔

فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا
پس جو اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔
(الکہف: 110)

یعنی عمل کے قبول ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں

اخلاص نیت صرف اللہ کے لیے۔ عمل کا شریعت کے مطابق ہونا۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
مَن أَحْدَثَ في أَمرِنا هذا ما ليسَ منه فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام نکالا جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔
 صحیح بخاری: كتاب الصلح: باب إذا اصطلحوا على صلح جور فالصلح مردود: 2697

لہٰذا نیت کے بغیر عمل ریاکاری ہے، اور شریعت کے مطابق نہ ہو تو بدعت ہے۔ دونوں صورتوں میں عمل قابلِ قبول نہیں۔

تلاش کریں