کیا ختمِ نبوت کا انکار کفر ہے؟

جی ہاں، ختمِ نبوت کا انکار صریح کفر ہے۔ اسلام کی بنیاد اس عقیدے پر ہے کہ محمد ﷺ آخری نبی اور رسول ہیں۔

قرآن میں واضح اعلان ہے
مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا۝
محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، لیکن وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
(الأحزاب: 40)

نبی کریم ﷺ نے فرمایا
لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔
صحيح البخاري – كتاب أحاديث الأنبياء – باب ما ذكر عن بني إسرائيل: 3455

جو شخص ختمِ نبوت کا انکار کرتا ہے، وہ نہ صرف قرآن اور حدیث کی تکذیب کرتا ہے بلکہ اسلام کی اصل بنیاد کو گرا دیتا ہے۔ اسی لیے یہ طے ہے کہ ختمِ نبوت کا منکر کافر اور اسلام سے خارج ہے۔

تلاش کریں