مسلک سے مراد وہ الگ الگ جمودی گروہ بندی ہے جو بعد کے زمانوں میں پیدا ہوئی، تو اسے چھوڑنا دین سے انحراف نہیں بلکہ دین کی اصل طرف رجوع ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ
جو شخص رسول کی مخالفت کرے بعد اس کے کہ ہدایت اس پر ظاہر ہو گئی، اور مومنوں کے راستے کے علاوہ کسی اور کی پیروی کرے، ہم اسے اسی طرف پھیر دیں گے جدھر وہ پھر گیا اور جہنم میں داخل کریں گے۔
(النساء: 115)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
ما أنا عليه وأصحابي
وہی نجات پائے گا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہے۔
جامع الترمذي – أبواب الإيمان – ما جاء في افتراق هذه الأمة:2641
یعنی اصل مسلک اسلام کا وہ راستہ ہے جس پر نبی ﷺ اور صحابہؓ تھے۔ اس سے ہٹنا ہی حقیقی دین سے انحراف ہے۔