جی ہاں، ہر فرقہ اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے، لیکن حق وہی ہے جو قرآن و سنت اور صحابہ کرامؓ کی فہم کے مطابق ہو۔ اگر ہر گروہ اپنے فہم پر اعتماد کرے اور وحی کو چھوڑ دے تو اختلاف اور گمراہی بڑھتی ہے۔
وَاِنَّ هٰذِهٖٓ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّاَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّــقُوْنِ فَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا ۭ كُلُّ حِزْبٍۢ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُوْنَ
بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھ سے ڈرو۔ پھر انہوں نے اپنے معاملے کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا، ہر گروہ اسی پر خوش ہے جو اس کے پاس ہے۔
(المؤمنون: 52-53)
یہی حالت آج کے فرقوں کی ہے کہ سب اپنی بدعت و تاویلات کو حق سمجھ کر خوش ہیں، مگر اصل راہ وہی ہے جس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ تھے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
لَيَأْتِيَنَّ عَلَى أُمَّتِي مَا أَتَى عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْلِ ، حَتَّى إِنْ كَانَ مِنْهُمْ مَنْ أَتَى أُمَّهُ عَلَانِيَةً لَكَانَ فِي
أُمَّتِي مَنْ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، وَإِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ تَفَرَّقَتْ عَلَى ثِنْتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ مِلَّةً ، كُلُّهُمْ فِي النَّارِ إِلَّا مِلَّةً وَاحِدَةً. قَالُوا: وَمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي
میری امت پر بھی وہی کچھ ضرور آئے گا جو بنی اسرائیل پر آیا تھا، بالکل ایسے جیسے ایک جوتا دوسرے جوتے کے برابر ہوتا ہے، یہاں تک کہ اگر ان میں کوئی شخص علانیہ اپنی ماں سے بدکاری کرتا تھا تو میری امت میں بھی ایسے لوگ ہوں گے جو یہ کام کریں گے۔ اور بنی اسرائیل بہتر (72) فرقوں میں بٹ گئے تھے، جبکہ میری امت تہتر (73) فرقوں میں بٹ جائے گی، ان میں سے ایک کے سوا سب جہنم میں ہوں گے۔صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ ایک گروہ کون سا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا:وہ جو اس راستے پر ہوگا جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ (مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي)۔
جامع الترمذي – أبواب الإيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم – ما جاء في افتراق هذه الأمة:2641
پس معلوم ہوا کہ نجات یافتہ گروہ وہ ہے جو صرف قرآن و سنت اور فہمِ صحابہؓ کو اختیار کرے۔ باقی فرقے اپنے زعم میں حق پر ہیں لیکن حقیقت میں باطل پر۔