خوارج کا فتنہ دراصل وہی پرانا رویہ ہے جو دین کے نام پر دین کے ماننے والوں ہی کو کافر قرار دیتا ہے اور ان کے خون کو حلال سمجھتا ہے۔ یہ گروہ سب سے پہلے علیؓ کے زمانے میں ظاہر ہوا اور انہوں نے مسلمانوں کے منصفوں اور قاضیوں کے مقابلے میں اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ کا نعرہ لگا کر قرآن کو اپنی من گھڑت تاویلات کے ساتھ استعمال کیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا لَّسْتَ مِنْهُمْ فِي شَيْءٍ
بے شک جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور گروہ گروہ بن گئے، آپ ﷺ کا ان سے کوئی تعلق نہیں۔
الأنعام: 159
رسول اللہ ﷺ نے خوارج کی علامت یوں بیان کی
يَخْرُجُ فِيكُمْ قَوْمٌ تَحْقِرُونَ صَلَاتَكُمْ مَعَ صَلَاتِهِمْ ، وَصِيَامَكُمْ مَعَ صِيَامِهِمْ ، وَعَمَلَكُمْ مَعَ عَمَلِهِمْ ، وَيَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَنَاجِرَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَنْظُرُ فِي النَّصْلِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، وَيَنْظُرُ فِي الْقِدْحِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، وَيَنْظُرُ فِي الرِّيشِ فَلَا يَرَى شَيْئًا ، وَيَتَمَارَى فِي الْفُوقِ
تم میں ایک ایسی قوم نکلے گی کہ تم اپنی صلوٰة کو ان کی صلوٰة کے مقابلے میں، اپنے صیام کو ان کے صیام کے مقابلے میں، اور اپنے اعمال کو ان کے اعمال کے مقابلے میں حقیر سمجھو گے۔ وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے جسم سے پار نکل جاتا ہے۔ پھر تیر کے پھل کو دیکھا جائے گا تو اس پر کچھ نظر نہ آئے گا، اس کی لکڑی کو دیکھا جائے گا تو اس پر بھی کچھ نظر نہ آئے گا، اس کے پروں کو دیکھا جائے گا تو ان پر بھی کچھ نظر نہ آئے گا، اور تیر کے پچھلے حصے کے بارے میں بھی شک پڑ جائے گا (کہ اس پر کوئی نشان ہے یا نہیں)۔
صحيح البخاري – كتاب فضائل القرآن – باب إثم من راءى بقراءة القرآن أو تأكل به أو فخر به:3614
یہی حقیقت ہے کہ خوارج صرف ماضی کا واقعہ نہیں بلکہ ہر زمانے میں نئے نام اور نئے جھنڈے کے ساتھ ظاہر ہوتے ہیں۔ کبھی وہ شدت پسندی اور ناجائز تکفیر کے لبادے میں سامنے آتے ہیں، کبھی فرقہ واریت اور مسلح گروہوں کی صورت میں۔ ان سب میں مشترک بات یہی ہے کہ یہ اپنے سوا باقی سب مسلمانوں کو گمراہ یا کافر سمجھتے ہیں اور اس بنیاد پر فساد برپا کرتے ہیں۔
پس آج بھی خوارج کا فتنہ مختلف شکلوں میں زندہ ہے اور مؤمن کے لیے بچاؤ کی راہ صرف یہ ہے کہ وہ قرآن و صحیح حدیث کے عقیدے پر قائم رہے اور قرآن و سنت کی صحیح تعبیر صحابہ کرامؓ کے طریقے کے مطابق اختیار کرے۔