کیا اسلام کے اصول جدید دور میں تبدیل ہو سکتے ہیں؟

اسلام کے اصول اللہ کی وحی پر مبنی ہیں، جو ہمیشہ کے لیے کامل اور محفوظ ہیں۔ اصول کبھی تبدیل نہیں ہو سکتے، نئے اور جدید حالات میں بھی مسائل میں بھی قرآن و حدیث کی روشنی میں اجتہاد کے ذریعے عمل کیا جاتا ہے۔

دین مکمل کردیا گیا ہے، جیسے فرمایا کہ
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔(المائدہ 3)

یہ اعلان واضح کرتا ہے کہ دین اپنی تکمیل کو پہنچ چکا ہے، اب اس کے اصول میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
جو کوئی ہمارے اس دین میں ایسی چیز داخل کرے جو اس میں سے نہیں ہے تو وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری، حدیث نمبر 2697)

اسلام کے اصول ازل سے ابد تک وہی رہیں گے، نہ زمانہ ان کو بدل سکتا ہے اور نہ تہذیب۔ دین کے اصول میں نئی ایجاد یا تبدیلی مردود ہے۔ البتہ حالات کے بدلنے سے ان اصولوں کے تحت مسائل کی نئی صورتوں پر اجتہاد کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ خیر القرون میں کیا گیا۔

تلاش کریں