عقیدہ صرف عقلی بنیادوں پر قائم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایمان کا اصل ماخذ وحی ہے۔ عقل اللہ کی پہچان اور توحید کی طرف رہنمائی کر سکتی ہے، مگر وحی کے بغیر وہ گمراہی میں بھی ڈال سکتی ہے۔ عقیدہ وحی کی روشنی میں پختہ ہوتا ہے، عقل اس کی تصدیق کرتی ہے، مگر معیار نہیں بنتی۔ فرمایا کہ
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ ۭ وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهٗ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا مُّبِيْنًا
اور کسی مؤمن مرد یا عورت کے لیے یہ بات جائز نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو پھر ان کے اپنے معاملے میں ان کو اختیار باقی رہے، اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے وہ کھلی گمراہی میں پڑ گیا۔(الأحزاب: 36)
بنی اسرائیل اور فلسفیوں نے جب وحی کو چھوڑ کر صرف عقل پر عقیدہ بنایا تو کوئی تثلیث کا قائل بنا، کوئی انسان کو الہٰ مان بیٹھا، اور کوئی دہریت میں ڈوب گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف عقل پر قائم عقیدہ انسان کو بہکا دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے: اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔
موطأ الإمام مالك – كِتَابُ الْقَدَرِ – النهي عن القول بالقدر:3338
لہذا ادین اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ عقیدہ وحی پر قائم ہوتا ہے، عقل اس کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اگر عقل کو وحی پر مقدم کر دیا جائے تو یہ خواہشات کی پیروی اور ضلالت ہے۔