دین میں سائنس کو معیار نہیں بنایا جا سکتا، کیونکہ دین کا ماخذ وحی ہے، اور وحی قطعی موقف ہے، جبکہ سائنس انسان کی محدود عقل و تجربے پر قائم ہے جو بدلتی رہتی ہے۔ دین ہمیشہ حق ہے اور سائنس بدلنے والا نظریہ ہے۔
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا ۭلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ
اور تیرے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے پوری ہے، اس کی باتوں کو کوئی بدلنے والا نہیں، اور وہ سب کچھ سننے والا، جاننے والا ہے۔
(الأنعام: 115)
عقل اور سائنس کا اصول مخلوق کے بنائے ہوئے اصول ہیں، ان میں کمی و زیادتی ممکن ہے۔ اگر ان کو دین پر حاکم مانا جائے تو وحی کو انسان کے بدلتے ہوئے نظریات کا غلام بنا دیا جائے گا۔ یہی روش بنی اسرائیل نے اختیار کی تھی کہ وہ ہر حکم پر دلیل عقلی اور تجربہ مانگتے رہے، نتیجہ یہ ہوا کہ ذلیل اور مغضوب قرار پائے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
تَرَكْتُ فِيكُمْ أَمْرَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا: كِتَابَ اللَّهِ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِ
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک انہیں تھامے رہو گے ہرگز گمراہ نہ ہوگے اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی سنت۔
موطأ الإمام مالك – كِتَابُ الْقَدَرِ – النهي عن القول بالقدر:3338
یعنی معیار قرآن و حدیث ہے، نہ کہ سائنس یا فلسفہ۔
اسلام کا تقاضا یہ ہے کہ دین کو صرف وحی سے لیا جائے۔ سائنس اگر وحی کی تائید کرے تو یہ عقل کے لیے سہولت ہے، مگر اگر سائنس کو وحی پر حاکم بنایا جائے تو یہ شرک اور خواہشات کی پیروی ہے۔