عقلی دلائل سے توحید کو سمجھایا اورواضح کیا جا سکتا ہے، مگر توحید کا اصل ثبوت اللہ کی کتاب اور رسول ﷺ کی سنت ہی ہے۔ عقل اللہ کی وحدانیت کو پہچاننے کا ذریعہ ہے، لیکن فیصلہ کن حجت وحی ہے۔
أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
کیا اللہ کے بارے میں کوئی شک ہے؟ وہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے۔(ابراهيم: 10)
یہی بات عقل بھی مانتی ہے کہ جو کائنات کو عدم سے وجود میں لایا، اس کا کوئی شریک نہیں ہو سکتا۔ مگر عقل اکیلی رہنمائی کے لیے کافی نہیں، کیونکہ خواہشات اور گمراہ نظریات اسے بگاڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے اللہ نے وحی کو فیصلہ کن بنایا۔
بنی اسرائیل اور فلاسفہ نے عقل پراعتماد کیا اور وحی سے بے نیازی کی، نتیجہ یہ ہوا کہ کبھی انہوں نے عیسیٰؑ کو اللہ کا بیٹا کہا، کبھی کئی معبود گھڑ لیے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وحی کے بغیر عقل اکیلی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ ، وَيُنَصِّرَانِهِ ، كَمَا تُنْتِجُونَ الْبَهِيمَةَ هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ ؟ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا
کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر نہ پیدا ہوتا ہو۔ لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں جیسا کہ تمہارے جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہیں۔ کیا ان میں کوئی کان کٹا پیدا ہوتا ہے؟ وہ تو تم ہی اس کا کان کاٹ دیتے ہو۔
صحيح البخاري:كتاب القدر: باب الله أعلم بما كانوا عاملين:6599
یعنی فطرت اورعقل تو توحید کی طرف مائل کرتی ہے، لیکن وحی کے بغیر انسان بہک سکتا ہے۔ توحید کا خالص تقاضا یہ ہے کہ عقلی دلائل کو وحی کے تابع رکھا جائے، اور اللہ کی وحدانیت کو قرآن و سنت سے ہی حجت مانا جائے۔