کیا اذنِ خاص دین میں حجت ہے؟

بعض صوفیاء  اور فرقوں میں اذنِ خاص کا عقیدہ رائج ہے، یعنی یہ دعویٰ کہ اللہ یا رسول ﷺ کی طرف سے کسی خاص شخص کو خفیہ طور پر اجازت مل جاتی ہے کہ وہ کوئی نیا وظیفہ، طریقہ یا عمل اختیار کرے، خواہ وہ قرآن و سنت میں موجود نہ ہو۔ اس کے ذریعے بہت سی بدعات کو دین میں داخل کیا گیا ہے۔

قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ
اليَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلاَمَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کیا۔ المائدة :3
دین مکمل ہو چکا ہے، اس کے بعد کسی نئے اذنِ خاص کی گنجائش نہیں۔

اذنِ خاص کے نام پر نئے اذکار، وظائف یا رسومات جاری کرنا بدعت ہے، کیونکہ یہ دین میں اضافہ ہے۔ جب کوئی کہتا ہے کہ مجھے نبی ﷺ یا اللہ سے براہِ راست اجازت ملی ہے، تو یہ دراصل وحی کے دروازے کو کھولنے کے مترادف ہے، جبکہ وحی نبی ﷺ پر ختم ہو چکی۔ یہ عقیدہ لوگوں کو شرک اور گمراہی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی دعویٰ یہودیوں اور نصرانیوں نے بھی کیا کہ انہیں خصوصی اجازت اور وحی ملتی رہتی ہے، اور اسی سبب وہ اپنی شریعت کو بگاڑتے گئے۔ امتِ مسلمہ کو اسی انحراف سے بچایا گیا ہے، مگر اذنِ خاص کے نظریے سے وہی دروازہ دوبارہ کھلتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
وَإِنَّهُ سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي كَذَّابُونَ ثَلَاثُونَ، كُلُّهُمْ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، وَأَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي
میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے، سب کہیں گے میں نبی ہوں، حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔
سنن أبي داود – كتاب الفتن والملاحم – باب ذكر الفتن ودلائلها:4246

یہ حدیث اس اصول کو بند کر دیتی ہے کہ کوئی وحی یا اذنِ خاص نبی ﷺ کے بعد ممکن ہو۔ اذنِ خاص دین میں کوئی حجت نہیں، بلکہ ایک باطل اور بدعت پر مبنی عقیدہ ہے۔ دین مکمل ہے اور شریعت صرف قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ جو عمل نبی ﷺ اور صحابہؓ کے طریقے سے ثابت نہ ہو، وہ دین میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ بندے کی نجات صرف اتباعِ قرآن و سنت اور صحابہ کرامؓ کے راستے میں ہے، نہ کہ خودساختہ اذن و دعووں میں۔

تلاش کریں