کیا علمِ باطن قرآن سے ثابت ہے؟

اسلام میں اصل رہنمائی صرف قرآن اور سنت سے ہے۔ علمِ باطن کے نام پر جو خفیہ یا چھپا ہوا علم بعض لوگ پیش کرتے ہیں، وہ قرآن سے ثابت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے دین کو واضح اور عام فہم بنا کر بھیجا ہے تاکہ ہر شخص سمجھ سکے اور عمل کر سکے۔

قرآن میں ارشاد ہے کہ
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ
اور یقیناً ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے، تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا؟
(القمر 17)

اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآن کوئی خفیہ یا باطنی کتاب نہیں، بلکہ ہر شخص کے لیے آسان اور عام فہم ہے۔ نبی ﷺ نے بھی دین کو کھول کر بیان کیا، چھپایا کچھ نہیں۔

آپ ﷺ نے فرمایا کہ
قَدْ تَرَكْتُكُمْ عَلَى الْبَيْضَاءِ ، لَيْلُهَا كَنَهَارِهَا ، لَا يَزِيغُ عَنْهَا بَعْدِي إِلَّا هَالِكٌ
میں نے تمہیں بالکل صاف اور روشن دین پر چھوڑا ہے، جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس سے ہٹنے والا ہی ہلاک ہوگا۔
 سنن ابن ماجه – أبواب السنة – باب اتباع سنة الخلفاء الراشدين المهديين:43

پس واضح ہوا کہ علمِ باطن جیسی اصطلاح قرآن یا نبی ﷺ کی تعلیمات سے ثابت نہیں۔ یہ بعد کی گھڑی ہوئی باتیں ہیں جنہوں نے دین میں غلو اور بدعات کو جنم دیا۔ اصل ایمان وہ ہے جو قرآن و سنت سے کھلے طور پر ثابت ہے، نہ کہ کوئی چھپا یا خفیہ علم۔

تلاش کریں