کیا یا رسول اللہ کہنا شرک ہے؟

قرآنی تعلیمات کے مطابق یا رسول اللہ کہنا اس لئے کہ نبی ﷺ کو پکار کر مدد چاہی جائے تو یہ صریح شرک ہے، کیونکہ مدد اور پکار صرف اللہ کے لئے ہے۔

وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ
اور تمہارا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا، جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔  غافر: 60

یہاں اللہ نے پکارنے  دعاء  کو اپنی عبادت قرار دیا ہے، اس میں کسی اور کو شامل کرنا عبادت میں شرک ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا
إذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله
جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔
  سنن ترمذی: كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم:2516

اس سے واضح ہے کہ یا رسول اللہ مدد کے لئے کہنا شرک ہے۔

البتہ اگر یا رسول اللہ کا لفظ محض خطاب یا ذکرِ محبت میں بولا جائے، جیسے صحابہ کرامؓ نبی ﷺ کو انکی حیات میں مخاطب کرتے تھے، تو تب وہ جائزتھا۔ لیکن وفات کے بعد نبی ﷺ کو پکارنا اور مدد چاہنا عبادت کے زمرے میں آتا ہے، جو کہ شرک ہے۔

یا رسول اللہ کہنا اگر دعا اور مدد کی نیت سے ہو تو یہ شرک ہے، کیونکہ مافوق الاسباب  پکارنے کا حق صرف اللہ کے لئے ہے۔ اگر صرف محبت یا ذکر کے طور پر ہو تو گستاخی نہیں، لیکن عقیدہ اورعبادت میں محتاط رہنا ضروری ہے۔

تلاش کریں