کیا قبروں پر سجدہ شرک ہے یا گستاخی؟

قبروں پر سجدہ کرنا شرک ہے۔ کیونکہ سجدہ اللہ کے لیے خاص عبادت ہے، اور نبی ﷺ نے اسے غیر اللہ کے لیے منع فرمایا۔

وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا
اور تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔  بنی اسرائیل 23

اس سے واضح ہے کہ عبادت کی سب سے بڑی علامت سجدہ ہے، اور یہ صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے۔

قبروں پر سجدہ کرنا، چاہے نیت ادب کی ہو یا عبادت کی، دونوں صورتوں میں غیر اللہ کو عبادت میں شریک کرنا ہے، جو شرک ہے۔ اگر کوئی کہے کہ نیت عبادت کی نہیں بلکہ ادب کی ہے، تب بھی یہ گستاخی ہے، کیونکہ اللہ نے سجدہ صرف اپنی ذات کے لیے مقرر کیا ہے، کسی نبی یا ولی کے لیے بھی جائز نہیں۔

قومِ نوحؑ نے اپنے بزرگوں کے مجسمے یاد اور ادب کے لیے بنائے، پھر بعد میں انہی کی عبادت شروع ہوگئی  نوح 23 ۔ یہی حال قبروں پر سجدہ کرنے والوں کا ہے کہ ابتدا یاد اور ادب کی نیت سے ہوتی ہے، لیکن حقیقت میں شرک تک جا پہنچتی ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا کہ
لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى؛ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ
اللہ یہود و نصاریٰ پر لعنت کرے کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔
صحيح البخاري – كتاب الصلاة – باب حدثنا أبو اليمان:435

قبروں پر سجدہ کرنا سراسر شرک ہے اور ساتھ ہی اللہ و رسول ﷺ کی نافرمانی و گستاخی بھی ہے۔ توحید کا تقاضا ہے کہ سجدہ صرف اللہ کے لیے ہو اور قبر و مزار کے سامنے عاجزی و بندگی کے ہر عمل سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

تلاش کریں