اگر کسی کو معبود ماننے کی نیت نہ ہو تو اس کے لئے عمل شرک نہیں بنتا؟

شرک صرف دل کی نیت سے وابستہ نہیں بلکہ عمل اور ظاہر کی صورت سے بھی متعین ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کے سامنے جھکے، نذر و نیاز دے، یا مدد مانگے جو صرف اللہ کے لئے خاص ہے، تو چاہے وہ زبان سے ہم اس کو معبود نہیں مانتے کہے، پھر بھی یہ شرک شمار ہوگا، کیونکہ شرک کا مطلب ہے اللہ کے حق کو غیر کو دینا۔

فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا
پس اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو۔
(الجن: 18)

نبی ﷺ نے فرمایا کہ
الدعاء هو العبادة
یعنی دعا ہی عبادت ہے۔
(ترمذی 2969)

لہٰذا اگر کوئی عمل بظاہر اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرتا ہے، تو نیت کے دعوے سے وہ جائز نہیں ہوجاتا۔ پچھلی امتوں نے بھی یہ کہا تھا کہ ہم بتوں کو معبود نہیں مانتے، بس ان کے وسیلے سے اللہ تک پہنچنا چاہتے ہیں، مگر قرآن نے اسے شرک قرار دیا (یونس: 18)

اسلام کی سیدھی راہ یہی ہے کہ دل اور عمل دونوں خالص اللہ کے لئے ہوں، کیونکہ توحید صرف نیت سے نہیں بلکہ عمل سے بھی ثابت ہوتی ہے۔

تلاش کریں