اسلام میں اصل بنیاد توحید اور اتباعِ رسول ﷺ ہے۔ دین وہی ہے جو اللہ نے قرآن میں اور نبی ﷺ نے سنت میں بیان فرمایا۔ اس میں اپنی طرف سے اضافہ یا نئی عبادت گھڑنا ممنوع ہے۔ اسی اصول پر میلاد، عرس اور دیگر سالانہ مذہبی تقریبات کو پرکھنا ہوگا۔
قرآن میں اللہ تعالی نے فرمایا کہ
أَمْ لَهُمْ شُرَكَاءُ شَرَعُوا لَهُمْ مِّنَ الدِّينِ مَا لَمْ يَأْذَن بِهِ اللَّهُ
کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے دین میں وہ باتیں مقرر کیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟
(الشورى: 21)
دین کے نام پر وہی عمل درست ہے جسے اللہ نے مشروع کیا۔ نئی عبادات یا رسومات شریعت میں اضافہ ہیں۔ میلاد کے نام پر نبی ﷺ کی پیدائش کے دن کو جشن بنانا، یا عرس کے نام پر قبروں پر اجتماع، قرآن و سنت سے ثابت نہیں۔ ان کو دین کا حصہ بنانا بدعت ہے، اور بدعت کا مطلب ہے دین میں اضافہ کرنا جو گمراہی اور جہنم کی آگ ہے۔
بنی اسرائیل نے اللہ کی شریعت میں اپنی طرف سے عبادات اور تہوار گھڑے، تو اللہ نے انہیں گمراہی میں چھوڑ دیا۔ یہی صورت آج نام نہاد کلمہ گو مسلمانوں میں بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔
جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ
مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے دین میں کوئی نیا کام نکالا جو اس میں سے نہیں تو وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری: 2697، صحیح مسلم: 1718)
لہذا میلاد، عرس اور اس جیسی تقریبات بدعات ہونے کی وجہ سے مردود ہیں۔ نجات کا راستہ صرف اللہ کی توحید، قرآن کی اتباع اور نبی ﷺ کی سنت پر عمل ہے۔ ہمیں صحابہ کرامؓ کے راستے پر قائم رہنا چاہیے جنہوں نے کبھی ایسی رسومات اختیار نہیں کیں۔