ہر بدعت دین میں اضافہ ہے اور وہ گمراہی ہے۔ دین مکمل ہو چکا ہے اور اس میں کسی نئی بات کی گنجائش نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہےکہ
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا۔
(المائدہ 3)
جب دین مکمل ہو گیا تو اس کے بعد نئی چیز شامل کرنا اللہ کے دین کو ناقص سمجھنے کے مترادف ہے، جو خود ایک گمراہی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا کہ
وَشَرَّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلالَةٌ
اور سب سے بُرے کام دین میں نئی ایجادات ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔
(صحیح مسلم، حدیث 867)
صحابہ کرامؓ نے بھی دین کو ویسا ہی محفوظ رکھا جیسا نبی ﷺ نے دیا، اور کسی نئی چیز کو دین میں شامل کرنا خلافِ توحید ہے۔ لہذا ہر بدعت خواہ چھوٹی ہو یا بڑی، دین سے دوری اور گمراہی ہے، کیونکہ دین اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی لائی ہوئی وحی تک محدود ہے، اور اس میں کمی یا اضافہ ممکن نہیں۔