عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے بنی اسرائیل کے قتل کے منصوبے سے بچاتے ہوئے زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور یہ واقعہ قرآن میں صریح نص کے ساتھ ایک منفرد معجزہ کے طور پر بیان ہوا ہے۔ باقی تمام انبیاء کے بارے میں قرآن واضح طور پر ان کی وفات اور قضائے موت کا ذکر کرتا ہے، اس لیے عقیدے کے باب میں یہ بات قطعی ہے کہ عیسیٰؑ کے سوا کسی نبی کو زندہ آسمان پر نہیں اٹھایا گیا۔ اسے دوسرے پر قیاس نہ کیا جائے۔
:قرآن کی قطعی نص
بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ
بلکہ اللہ تعالی نے اس کو اپنی طرف اٹھایا۔ (النساء 158)
یہ عبارت اس بات کی غیر مبہم دلیل ہے کہ اللہ نے خاص طور پر عیسیٰؑ کو اپنی طرف بلند کیا، اور یہ رفع بغیر موت کے ہوا۔ قرآن میں کسی اور نبی کے لیے یہ اسلوب اور یہ کیفیت نہیں آئی۔
نبی ﷺ نے بھی خبر دی کہ عیسیٰ ابن مریمؑ قربِ قیامت خود نازل ہوں گے، دجال کو قتل کریں گے، اور اسی شریعت کی پیروی کریں گے اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ زندہ اٹھائے گئے تھے۔
نبی ﷺ نے اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے یوں فرمایا:
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔ اس وقت کا ایک سجدہ دنيا وما فيها سے بڑھ کر ہو گا۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو [وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا] اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰ کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔
(صحيح بخاری:كتاب أحاديث الأنبياء:حدیث: 3448)
یعنی عیسیٰؑ قیامت سے قبل واپس آئیں گے، جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ وہ قتل نہیں کیے گئے، نہ طبعی وفات پائی، بلکہ اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔
موجودہ زمانے میں بعض باطل دعوے، جیسے فلاں بزرگ آسمان پر چلے گئے یا روحانی طور پر اٹھا لیا گیا۔ یہ سب خرافات ہیں جن کی نہ قرآن میں اصل ہے نہ حدیث میں۔ صحابہ کرامؓ نے اس مسئلے میں مکمل وضاحت کے ساتھ یہی سمجھ رکھا کہ رفعِ عیسیٰؑ خاص معجزہ ہے۔