نہیں، مردوں کی روحیں دنیا کے حادثات یا واقعات نہیں دیکھ سکتیں۔ موت کے بعد سب کے لیے ایک ہی قانون ہے۔ روح برزخ میں مخصوص مقام پر مقید ہوتی ہے اور دنیا میں کسی بھی قسم کا مشاہدہ یا مداخلت ممکن نہیں کر سکتیں۔ قرآن میں اللہ فرماتا ہے
وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
کہ ان کے پیچھے ایک آڑ ہے، قیامت کے دن تک۔ المؤمنون، 100
یہ برزخ دنیا سے مکمل جداگانہ ہے اور قیامت تک ٹوٹتا نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے بھی روح کے بارے میں صرف برزخ کی خبر دی ہے۔ موت کے ساتھ ہی انسان کی دنیاوی ختم ہو جاتی ہے اور روح کی برزخ کی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو جہنم ہے تو جہنم والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔
صحيح بخاری:كتاب الجنائز:حدیث: 1379
یہ سب ثابت کرتا ہے کہ مردوں کی روحیں دنیا کے حالات، حادثات یا واقعات کو نہیں دیکھ سکتیں، نہ سنت، نہ قرآن، اور نہ صحابہؓ کے فہم کے مطابق۔ سب کے لیے ایک ہی قانون ہے۔ روح برزخ میں مقید، دنیاوی امور سے آزاد۔