کیا روح مرنے کے بعد اپنی قبر کے آس پاس رہتی ہے؟

اللہ تعالیٰ نے روح کے بارے میں جو خبر دی ہے وہ یہ ہے کہ موت کے بعد روح دنیا سےرخصت ہو کر برزخ میں داخل ہو جاتی ہے، اور قرآن نے برزخ کو ایک مضبوط، ناقابلِ واپسی حد قرار دیا ہے۔

وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
اور ان کے پیچھے ایک آڑ ہے، قیامت کے دن تک۔(المؤمنون، 100)

اس بیان میں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ روح کا دنیا میں آنا، قبر کے آس پاس رہنا، یا زندوں کے قریب ٹھہرنا یہ سب برزخ کی حقیقت کے خلاف ہے، کیونکہ برزخ خود حدسے نہ بڑھنےوالی رکاوٹ ہے۔

نبی کریم ﷺ نے بھی روح کی بعد از موت کیفیت کو قبر کے آس پاس موجود رہنے کے بجائے  فیصلے کے دن   کے ساتھ جوڑا ہے۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ روح کو ہر صبح و شام جنت یا جہنم میں اس کا مقام دکھایا جاتا ہے ۔(صحیح بخاری  كتاب الجنائز:بَابُ الْمَيِّتِ يُعْرَضُ عَلَيْهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ: 1379)۔یہ بات بذاتِ خود ثابت کرتی ہے کہ روح قبر کے کنارے موجود نہیں بلکہ ایک الگ عالم میں ہے جہاں اس کا نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ اگر روح قبر کے آس پاس رہتی، تو نبی ﷺ ضرور صراحت فرماتے، کیونکہ عقیدہ کی بنیاد میں یہ مسئلہ بہت اہم ہوتا ہے۔ بعض باطنی اور صوفی گروہوں نے یہ خیال پیش کیا کہ روح قبر میں آجاتی  ہے یا اپنے گھر والوں کے پاس آتی جاتی ہے، مگر یہ نظریہ قرآن و سنت سے نہیں، بلکہ آبائی مذاہب، ہندوانہ رسومات اور مشرکانہ تصورات سے آیا ہے، جہاں مردوں کو اپنے علاقوں کا  محافظ سمجھا جاتا تھا۔ اسلام نے اسی غلط سمت کو روکنے کے لیے قبر کی زیارت کی اجازت دی  لیکن اس نیت سے کہ آخرت یاد آئے، نہ کہ روح سے امیدیں لگائی جائیں۔صحابہ کرامؓ کے فہم میں روح کا قبر کے آس پاس رہنے کا کوئی تصور نہیں تھا۔ وہ قبر پر جا کر دعا کرتے تھے، سلام کہتے تھے، لیکن کبھی یہ نہیں مانا کہ روح قبر کے قریب کھڑی ہے یا سن رہی ہے۔ ان کے نزدیک روح اپنے برزخی مقام پر ہے اور قبر صرف جسم کا ٹھکانہ ہے، روح کا نہیں۔ لہٰذا روح کا مرنے کے بعد اپنی قبر کے آس پاس رہنا نہ قرآن سے ثابت ہے، نہ سنت سے، نہ فہمِ صحابہؓ سے۔ توحید پر مبنی عقیدہ یہی ہے کہ قبر مردہ جسم  کے لیے ہے، اور برزخ روح کے لیے ہے ۔ دونوں کے درمیان اللہ کی بنائی ہوئی حد قیامت تک  کے لئے  ہے۔

تلاش کریں