کیا روح کا واپس دنیا میں آکر لوگوں کے کام کرنا ممکن ہے؟

اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد انسان کی روح کو جس مقام پر رکھا ہے، اسے برزخ کہا ہے، اور قرآن نے یہ بتا کر مسئلے کو بند کر دیا کہ یہ پردہ قیامت تک ٹوٹ ہی نہیں سکتا۔

وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُون
 اور ان کے پیچھے ایک آڑ ہے، قیامت کے دن تک۔(المؤمنون، 100)

یہ اعلان اس بات کو قطعی بنا دیتا ہے کہ روح کا دنیا کی طرف لوٹنا، لوگوں کے کام کرنا، ان کی مدد کرنا، ان کے گھروں میں آنا جانا سب برزخ کی اس قطعی حد کے خلاف ہے۔ قرآن نے روح کے بارے میں صرف ایک ہی راستہ بتایا: موت کے بعد برزخ میں قیامت تک رہنا۔ دنیا میں واپسی کا کوئی دروازہ کھلا چھوڑا ہی نہیں۔ اگر روح دنیا میں واپس آ کر لوگوں کے کام کر سکتی، مدد کر سکتی، یا ان کے حالات میں مداخلت کر سکتی، تو نبی ﷺ ضرور بتاتے، کیونکہ یہ عقیدہ توحید باری تعالی، دعا اور اللہ پر بھروسے سے براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔آج جن فرقوں اور غالی صوفی گروہوں میں اولیاء کی روحوں کے دنیا میں گھومنے، مشکلیں حل کرنے، یا حاجات پوری کرنے کا عقیدہ پایا جاتا ہے، وہ دراصل سابقہ مشرک اقوام کے اسی نظریے کی باقیات ہے۔ یہی عقیدہ ہندوانہ تناسخ، روحانی چکروں اور بت پرستی کے نظام کی بنیاد بنا اور یہی عقیدہ لوگوں کو اللہ سے کاٹ کر مخلوق سے امیدیں لگانے پر مجبور کرتا ہے۔ اسلام نےعود روح کے دروازے کو قیامت تک بند کرکے اس دروازے کو مستقل طور پر کھولنے سے روک دیا۔صحابہ کرامؓ کے ہاں بھی اس مسئلے پر مکمل اتفاق تھا کہ روح دنیا میں واپس نہیں آتی۔ نہ انہوں نے کبھی کسی شہید، کسی صالح یا کسی ولی کی روح کو دنیا کے کام کرتے مانا، نہ روایت کیا۔ ان کے نزدیک روح کی مدد و تصرف کا عقیدہ براہِ راست توحید کے اصولوں کے خلاف تھا، کیونکہ مدد، نفع اور دفعِ ضرر کا اختیار صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔لہٰذا روح کا دنیا میں واپس آ کر لوگوں کے کام کرنا قرآن کے خلاف، سنت کے خلاف، اور فہمِ صحابہؓ کے خلاف ہے۔ برزخ میں ارواح  کا قیام اللہ کے حکم سے ہے، اور قیامت کے دن ان کی واپسی خلق جدید والے جسم میں اللہ کے حکم سے ہو گی۔ دنیا اور برزخ کے درمیان کوئی نیم کھلا دروازہ نہیں یہ عقیدہ صرف مشرکانہ فلسفوں میں ہے، اسلام میں نہیں۔

تلاش کریں