اللہ تعالیٰ نے روح کے بارے میں جو بیان فرمایا ہے وہ یہ بات پوری قطعیت کے ساتھ واضح کر دیتا ہے کہ روح کا قبض، اس کا ٹھہراؤ اور اس کی واپسی سب اللہ کے خاص اختیار میں ہے، کسی انسان، بزرگ یا باطنی قوت کے ہاتھ میں نہیں۔ اللہ کا فرمان ہے۔
اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ
اللہ ہی روحوں کو ان کی موت کے وقت قبض کر لیتا ہے اور جن کی موت نہیں آئی ہوتی ان کو بھی ان کی نیند کی حالت میں (قبض کر لیتا ہے) پھر روک لیتا ہے ان (روحوں) کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے اور دوسری (روحوں) کو ایک مقررہ مُدّت تک چھوڑ دیتا ہے بےشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ (الزمر: 42)
اس آیت میں روح کے لیے صرف دو حالتیں بتائی گئیں، موت اور نیند۔ اس کے علاوہ روح کا جسم سے نکل کر کسی اور جسم یا چیز میں جانا اسکا کوئی قائدہ نہیں ہے۔ یہ خاموشی بذاتِ خود دلیل ہے اور (فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ) دلیل ہے کہ روک لیتا ہے ان (روحوں) کو جن کی موت کا فیصلہ کرتا ہے۔ یعنی یہ اللہ کے پاس روک لی جاتی ہیں واپس دنیا میں نہیں آتیں اس کے برعکس کوئی نظام اللہ کی شریعت میں ہے ہی نہیں۔موت کے ساتھ ہی انسان کی دنیاوی حرکت ختم اور برزخی زندگی شروع ہو جاتی ہے۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص مر جاتا ہے تو اس کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔(صحیح بخاری : كتاب الجنائز:بَابُ الْمَيِّتِ يُعْرَضُ عَلَيْهِ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ: 1379)۔اگر روح کسی جانور، پرندے، انسان یا بےجان چیز میں منتقل ہوتی، تو نبی ﷺ ضرور خبر دیتے، کیونکہ عقیدے کا تعلق ہدایت و نجات سے ہے۔ آج کچھ باطنی گروہ، ہندوانہ عقائد کے اثرات رکھنے والے حلقے، اور غالی صوفیاء یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ روح کبھی پرندے میں، کبھی درخت میں، کبھی کسی دوسرے انسان میں حلول کر جاتی ہے۔ یہی وہ عقائد تھے جنہوں نے سابقہ مشرک اقوام کو آخرت کے یقین سے محروم کر دیا تھا۔ تناسخ ہمیشہ قیامت کے انکار کے ساتھ جڑا رہتا ہے، اس لیے اسلام نے اسے مکمل طور پر رد کر دیا۔صحابہ کرامؓ کے فہم میں اس مسئلے پر مکمل یکسوئی تھی کہ روح مرنے کے بعد صرف برزخ میں جاتی ہے، دنیا میں کسی جسم یا چیز میں واپس نہیں آتی۔ نہ قرآن میں، نہ سنت میں، اور نہ صحابہؓ کے اقوال میں روح کے حلول، منتقلی یا کسی زندہ وجود میں داخل ہونے کا ایک اشارہ بھی نہیں ملتا ہے۔ ان کا راستہ توحید اور آخرت کے واضح یقین پر قائم تھا، جس میں روح کے سفر کا پورا نظام اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ اسی لیے فوت شدہ کی روح کا کسی جاندار یا بےجان چیز میں منتقل ہونا قرآن کے خلاف، سنت کے خلاف، اور فہمِ صحابہؓ کے خلاف ہے۔ لہذا موت کے بعد برزخ میں جاتی ہے، اور قیامت کے دن اسی اصل جسم میں لوٹائی جائے گی۔ یہی راستہ نجات کا ہے، اور یہی اہلِ ایمان کا درست عقیدہ ہے۔