کیا حدیث میں کہیں آیا ہے کہ روح مرنے کے بعد دنیاوی زندگی اختیار کرتی ہے؟

جب اس مسئلے کوقرآن اور سنت کی روشنی میں دیکھا جائے تو سب سے پہلے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ موت دنیاوی زندگی کا مکمل خاتمہ ہے اور مرنے کے بعد جو کچھ پیش آتا ہے وہ دنیاوی نہیں بلکہ برزخی زندگی ہے۔ یہی وہ اصول ہے جسے چھوڑ دینے سے یہ گمان پیدا ہوا کہ روح دنیا جیسے کام دوبارہ کرنے لگ جاتی ہے، حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے ایسی ہر نسبت کو جاہلی باقیات قرار دے کر ختم کر دیا۔

قرآن نے موت کے بعد کے مرحلے کو یوں بیان کیا ہے۔

وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ
اور ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے اس دن تک کے لیئے ایک پردہ ہے جس دن انہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔(المومنون :100)

یہ عبارت واضح اعلان کرتی ہے کہ موت کے بعد روح دنیا میں نہیں لوٹتی، بلکہ برزخ کے پردے میں چلی جاتی ہے اور وہ پردہ قیامت کے دن تک نہیں اٹھتا۔اکثریت یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرنے والے کی روح دنیا میں پرندہ بن کر ادھر ادھر پھرتی ہے، کبھی بدلہ لیتی ہے، کبھی پیغام دیتی ہے۔قرآن نے اس عقیدے کو قطعی طور پر باطل قرار دے کر یہ اصول دیا کہ روح دنیاوی زندگی کے کسی بھی کردار میں سرے سے واپس ہی نہیں آتی۔

ایک اور حدیث میں نبی ﷺ نے واضح فرمایا
إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ: إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ
جب انسان فوت ہو جائے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے سوائے تین اعمال کے (وہ منقطع نہیں ہوتے): صدقہ جاریہ یا ایسا علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے یا نیک بیٹا جو اس کے لیے دعا کرے۔
(صحيح مسلم: كِتَابُ الْوَصِيَّةِ:بَابُ مَا يَلْحَقُ الْإِنْسَانَ مِنَ الثَّوَابِ بَعْدَ وَفَاتِهِ:حدیث: 1631)

اگر روح دنیا میں آ کر کوئی دنیاوی زندگی یا اثرات رکھتی، لوگوں کی مدد کرتی، پیغام دیتی، سائے بن کر رہتی یا کسی دنیاوی عمل میں حصہ لیتی تو انقطع عملہ (اس کا دنیاوی عمل ختم ہو گیا) کا مفہوم ہی باطل ہو جاتا ہے۔ اس جملے نے اس عقیدے کے تمام راستے بند کر دیے کہ روح دنیاوی عمل دوبارہ اختیار کرتی ہے۔

آج جو تصورات گردش کرتے ہیں کہ نیک لوگوں کی روحیں واپس آتی ہیں، اولیاء کی روحیں حاجت روائی کرتی ہیں، شہداء کی روحیں گھروں میں پھرتی ہیں، یا روح مخصوص مقامات پر ظاہر ہوتی ہے یہ سب اسی غلط عقیدے کی شاخیں ہیں کہ روح موت کے بعد دنیاوی زندگی اختیار کرتی ہے، جبکہ قرآن و حدیث نے اسے صاف طور پر رد کر دیا ہے۔ لہذا کسی بھی صحیح حدیث میں یہ بات ہرگز ثابت نہیں کہ روح مرنے کے بعد دنیاوی زندگی اختیار کرتی ہے۔ بلکہ احادیث اور واضح کرتی ہیں کہ روح کا مرحلہ صرف اور صرف برزخ ہے۔ قیامت کے دن دوبارہ جسم میں لوٹائے جانے تک۔

تلاش کریں