کیا روح کسی زندہ انسان میں حلول کر سکتی ہے؟

فوت شدہ کی ارواح کا کسی زندہ انسان میں حلول کر جانا اسلام میں قطعاً باطل اور توحید کے خلاف ہے۔ یہ عقیدہ مشرکانہ مذاہب اور باطنی فرقوں میں پایا جاتا ہے، مگر قرآن و حدیث نے اسے سراسر ردّ کیا ہے۔ روح اللہ کی ملکیت ہے، کسی انسان کے جسم میں دوسری روح کا داخل ہونا ممکن نہیں، اور نہ شریعت میں اس کی کوئی ادنیٰ دلیل ہے۔

قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي
کہہ دو: روح میرے رب کے حکم میں ہے۔
(الإسراء 85)

حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُونِ ۝ لَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ۝
(یہ لوگ باز نہیں آئیں گے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آئے گی تو وہ کہے گا میرے رب ! مجھے (دنیا میں) واپس بھیج دے۔ تاکہ جس دنیا کو میں چھوڑ آیا ہوں، اس میں نیک کام کرلوں۔ ہرگز نہیں، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ کہہ رہا ہوگا، اور ان سب (مرنے والوں) کے پیچھے اس دن تک کے لیئے ایک پردہ ہے جس دن انہیں دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔
(المؤمنون 99–100)

لہذا روح کسی مخلوق کے اختیار یا تصرف میں نہیں، نہ وہ کسی جسم میں داخل ہو سکتی ہے، نہ ایک جسم سے دوسرے جسم میں منتقل ہو سکتی ہے۔ یہ صرف اللہ کا امر ہے، انسان یا جنات کا اس پر کوئی اختیار نہیں۔ روح کا حلول، کسی مرے ہوئے کی روح کا زندوں میں آ جانا، یا اولیاء کی روحوں کا انسانوں میں داخل ہو کر ان سے اعمال کروانا، یہ سب شرکیہ اور باطل عقائد ہیں۔ شریعت میں اس کا کوئی وجود نہیں۔

تلاش کریں