کیا غیر اللہ کے نام پر نذر اور غیر اللہ کے نام پر قربانی کا شرعی حکم ایک ہے؟

غیر اللہ کے نام پر نذر اور غیر اللہ کے نام پر قربانی دونوں کا حکم شرعاً ایک ہی ہے، کیونکہ دونوں عبادت کی اقسام ہیں اور ان کا تعلق تقرب اور خالص اطاعت سے ہے۔ جب ان اعمال کا تعلق اللہ کے سوا کسی ہستی، قبر یا ولی سے جوڑا جائے تو وہ عبادت غیر اللہ کے لیے ہو جاتی ہے، اور یہی اصل شرک اور گمراہی ہے جس سے قرآن نے سب سے زیادہ روکا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ
جو چیز بھی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے نامزد کی گئی ہو، وہ حرام ہے۔ (البقرۃ، 173)
اس میں لفظ مَا عام ہے، جو ہر عمل اور ہر قسم کی نذر و قربانی کو شامل کرتا ہے۔

نبی ﷺ نے عبادت کی ساری اقسام صرف اللہ کے لیے خاص کیں، فرمایا
لَعَنَ اللّٰهُ مَنْ ذَبَحَ لِغَيْرِ اللّٰهِ
اللہ کی لعنت ہے اس شخص پر جو غیر اللہ کے لیے ذبح کرے۔(صحیح مسلم 1978)
یہ لعنت اس بات کی دلیل ہے کہ غیر اللہ کے نام پر قربانی کرنا بھی حرام اور شرک ہے، اور غیر اللہ کے نام پر نذر ماننا بھی اسی حکم میں داخل ہے، کیونکہ نذر بھی عبادت ہے جیسے قربانی عبادت ہے۔ دونوں کا مقصد تقرب ہوتا ہے، اور عبادت کا تقرب اگر اللہ کے سوا کسی کی طرف منتقل کیا جائے تو وہ شرک بن جاتا ہے۔

صحابہ کرامؓ نے کبھی نہ کسی ولی کے نام پر قربانی کی، نہ کسی قبر یا بزرگ کے نام پر نذر مانی، حالانکہ وہ سب سے زیادہ محبت رکھنے والے تھے۔ ان کا عمل اس بات کی گواہی ہے کہ محبت اور احترام عبادت کے حکم کو تبدیل نہیں کرتے، اور نہ ہی جذبات کسی حرام عمل کو حلال بنا سکتے ہیں۔ اسی لیے غیر اللہ کی نذر ہو یا قربانی، دونوں کا شرعی حکم ایک ہے وہ اللہ کی عبادت میں شریک کرنا ہے، اور یہ دین اسلام کے منافی عمل ہے۔

تلاش کریں