اگر کوئی اللہ کے لیے نذر مانے لیکن ولی کے مزار پر جا کر پوری کرے، تو اس کا حکم کیا ہوگا؟

نذر عبادت ہے، اور عبادت کا اصل حکم یہ ہے کہ وہ صرف اللہ کے لیے ہو اور اللہ ہی کے مقرر کردہ طریقے پر ادا کی جائے۔ اگر کوئی شخص زبان سے کہے کہ میں اللہ کے لیے نذر مانتا ہوں، مگر اس کی ادائیگی کسی ولی کے مزار پر جا کر کرتا ہے، تو اصل خرابی یہی ہے کہ عبادت کو ایک مخصوص مقام، قبر یا شخصیت کی نسبت سے جوڑ دیا گیا، جو عبادت کے رخ کو بدل دیتا ہے۔ یہی وہ دروازہ ہے جس سے پچھلی قومیں شرک کی طرف پھسلیں، نیت اللہ کے لیے ہوتی تھی مگر مقام اور طریقہ غیر اللہ کی طرف منتقل ہو جاتا تھا۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (وَمَا ذُبِحَ عَلَى النُّصُبِ) (المائدہ، 3) یعنی غیر اللہ کی نسبت سے متعین جگہوں پر ذبح کرنا حرام ہے۔ اور نذر کے بارے میں فرمایا: (يُوفُونَ بِالنَّذْرِ)(الانسان، 7) یعنی وہ لوگ نذر صرف اسی طرح پوری کرتے ہیں جس طرح اللہ نے حکم دیا۔ یہ دونوں آیات ایک اصول کھولتی ہیں کہ عبادت کی جگہ اور نیت دونوں اللہ کے لیے خالص ہوں، اگر نیت اللہ کی ہو مگر قربانی، دیگ یا نذر کی ادائیگی کسی قبر سے منسوب ہو جائے تو یہ عبادت کا رخ بدل کر اسے بدعت اور شرک کے قریب کر دیتی ہے۔

جو اللہ کی اطاعت کی نذر مانے وہ اسے پورا کرے، اور جس نے گناہ کی نذر مانی وہ اسے پورا نہ کرے۔ قبر پر جا کر نذر پوری کرنا اگرچہ ظاہراً اللہ کے نام پر ہو، مگر چونکہ اس کی ادائیگی ایک مخصوص ولی یا مزار کی تعظیم سے جوڑی گئی ہے، لہٰذا یہ اطاعت نہیں بلکہ معصیت کے حکم میں داخل ہو جاتی ہے، اور اسے پورا کرنا جائز نہیں۔

تلاش کریں