کیا مذہبی جلسوں میں مرد و زن کا اختلاط جائز ہے؟

قرآن و سنت کی روشنی میں مرد و عورت کے اختلاط کا معاملہ بہت حساس ہے، کیونکہ اسلام نے فتنہ سے بچنے اور پاکیزہ ماحول قائم رکھنے کے لیے دونوں کے درمیان حدود و آداب مقرر فرمائے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ

وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ ذَٰلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ

اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو، یہ تمہارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور ان کے دلوں کے لیے بھی۔
(الأحزاب 53)

یہ آیت عام اصول بیان کر رہی ہے کہ مرد و زن کے آزادانہ میل جول سے دلوں میں فتنے کے امکانات بڑھتے ہیں، لہٰذا پردہ اور علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ نے فرمایا

خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا، وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا

مردوں کی بہترین صف پہلی صف ہے اور بدترین آخری صف، اور عورتوں کی بہترین صف آخری صف ہے اور بدترین پہلی صف۔
(صحیح مسلم، حدیث 440)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حتیٰ کہ عبادت جیسے مقدس اجتماع میں بھی مرد و عورت کا قریب ہونا پسندیدہ نہیں۔ لہذا مذہبی جلسے یا کسی بھی اجتماع میں مرد و عورت کا آزادانہ اختلاط جائز نہیں، بلکہ اسلام کی تعلیم یہی ہے کہ علیحدہ نشستوں کا اہتمام کیا جائے تاکہ فتنے سے حفاظت ہو اور دین کی روح کے مطابق پاکیزہ ماحول قائم رہے۔

تلاش کریں