کیا خلافت کے بغیر جہاد فرض نہیں؟

رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں 13 سال دعوت دی، صبر کیا، صحابہ کرام ؓ کفار کے ظلم سہتے رہے، لیکن قتال نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اللہ نے ابھی اجازت نہیں دی تھی، اور مسلمانوں کے پاس کوئی اجتماعی قوت یا حکومت نہیں تھی۔

جب نبی ﷺ مدینہ ہجرت کر کے آئے اور اسلامی ریاست قائم ہوئی، تب اللہ تعالیٰ نے جہاد بالقتال کا حکم دیا۔ فرمایا کہ

أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا ۚ وَإِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ

اجازت دی گئی ان لوگوں کو جن سے جنگ کی جا رہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
(الحج :39)

یہ آیت پہلی بار قتال کی اجازت دینے والی ہے، اور یہ مدینہ میں نازل ہوئی۔ جہاد (قتال) صرف اس وقت فرض کیا گیا جب ایک منظم حکومت اور قیادت موجود تھی۔ مکہ میں مسلمان ایمان و عقیدہ کے لحاظ سے کامل مومن تھے، جیسے اصحاب کہف یا اصحاب الاخدود، لیکن قتال نہیں کیا کیونکہ اجتماعی قوت اور قیادت نہیں تھی۔

سورۃ الانفال میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایمان و صبر کی بنیاد پر تعداد اور اسباب سے کفار پرغلبے کی بشارت دی ہے۔ فرمایا کہ

يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَلَى الْقِتَالِ ۚ إِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِنْ يَكُنْ مِنْكُمْ مِائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَا يَفْقَهُونَ
اے نبی! اہل ایمان کو قتال پر ابھاریے، اگر تم میں سے بیس صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آ جائیں گے، اور اگر تم میں سے سو ہوں تو وہ ایک ہزار کافروں پر غالب آ جائیں گے کیونکہ وہ سمجھ نہ رکھنے والی قوم ہیں۔
(الانفال 65)

لہٰذا ایمان اور جہاد کا تعلق ہے، لیکن جہاد قتال کی صورت میں اسی وقت فرض ہوتا ہے جب ریاست اور قیادت ہو۔ انفرادی ظلم سہنا مکہ میں تھا، لیکن اجتماعی جہاد مدینہ میں حکومت کے قیام کے بعد فرض ہوا۔ اس سے ثابت ہوا کہ جہاد قتال خلافت یا حکومت کے ساتھ مشروع ہے، جبکہ ایمان اور صبر ہر حال میں فرض ہے۔

تلاش کریں