بیعت کا تصور قرآن و سنت میں بالکل واضح ہے کہ یہ صرف نبی ﷺ اور ان کے بعد مسلمانوں کے خلیفہ سے ہوتی تھی، تاکہ دین کی اطاعت، جہاد اور امت کے نظم کو قائم رکھا جائے۔ موجودہ خانقاہی نظام میں بیعت کا رواج اصل ماخذ یعنی قرآن و حدیث سے ثابت نہیں، بلکہ یہ بعد کی ایجاد ہے جس میں کسی شیخ یا پیر کے ہاتھ پر بیعت کو دین کا لازمی حصہ سمجھ لیا گیا۔
بیعت رسول ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے، کیونکہ ایمان اور عمل کی اصل سیدھا نبی ﷺ کی اطاعت پر ہے۔ فرمایا کہ
وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا
جو کچھ رسول ﷺ تمہیں دیں، اسے قبول کرو اور جو کچھ وہ تم سے منع کریں، اس سے باز رہو۔
(الحشر: 7)
یہ بیعت ہر مسلمان کے ایمان کی لازمی شرط ہے، اور اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں۔
دوسری جانب بیعت خلیفۃ المسلمین سے نظم، قیادت اور اتحاد کے لیے تھی، جیسا کہ صحابہ کرامؓ نے خلفائے راشدینؓ کے ساتھ کی۔ امام مسلم کتاب الامارہ میں روایت لائے ہیں کہ
من خلع يدا من طاعة لقي الله يوم القيامة لا حجة له، ومن مات وليس في عنقه بيعة مات ميتة جاهلية
جس شخص نے (مسلمانوں کے حکمران کی) اطاعت سے ہاتھ کھینچا وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں حاضر ہو گا کہ اس کے حق میں کوئی دلیل نہ ہو گی اور جو شخص اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں کسی (مسلمان حکمران) کی بیعت نہیں تھی تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا۔
(صحیح مسلم: 4793)
یہ حدیث بھی واضح کرتی ہے کہ بیعت امت کے خلیفہ سے ہوتی ہے، تاکہ مسلمانوں کی سیاسی و اجتماعی قیادت قائم رہے۔ کسی خانقاہ یا پیر کے ہاتھ پر بیعت کی کوئی بنیاد نہیں، بلکہ یہ بدعت ہے جو اصل مقصد (اطاعتِ رسول اور اتحادِ امت) کو بدل کر شخصیت و مسلک کی طرف لے جاتی ہے۔ خانقاہی بیعت نہ دین کی ضرورت ہے نہ اس کی کوئی شرعی دلیل ہے۔