عورت اور مرد کی صلوۃ ایک جیسی ہے، شریعت نے صلوۃ میں عورت اور مرد کے طریقے کو الگ نہیں کیا۔
اللّٰہ تعالیٰ نے عمومی حکم دیا
وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ
اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔
(البقرة: 43)
یہ حکم مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں ہے، کسی جگہ عورت کی صلوۃ کا طریقہ الگ بیان نہیں کیا گیا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي
نماز ایسے پڑھو جیسے مجھے نماز پڑھتے دیکھتے ہو۔
(صحیح بخاری، حدیث: 631)
یہ خطاب مرد و عورت سب کے لیے ہے، نبی ﷺ نے خواتین کے لیے کوئی الگ طریقہ نہیں بتایا۔
بعض لوگوں نے عورت کی صلوۃ میں زیادہ ستر پوشی اور امام کو لقمہ نہ دینے اور پچھلی صفوں میں صلوۃ ادا کرنے وغیرہ کو دلیل بنا کر عورتوں کی صلوۃ میں ازخود فرق کیا کہ عورت سمٹ کر صلوۃ پڑھے، سجدے میں بازو زمین پر پھلائے(جبکہ حدیث میں اسے کتے کی مشابہت دے کر منع فرمایا ہے۔) تشہد میں بیٹھنے وغیرہ کا فرق ڈال دیا ہے، لیکن یہ تفریق کسی صحیح و مرفوع احادیث سے ثابت نہیں ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ صلوۃ کا طریقہ مرد و خواتیں سب کے لئے ایک ہی ہے۔
إذا سجد احدكم فليعتدل ولا يفترش ذراعيه افتراش الكلب
جب تم میں سے کوئی سجدہ کرے تو اعتدال کرے اور اپنے ہاتھ کو کتے کی طرح نہ بچھائے۔
(جامع الترمذی:حدیث نمبر275)