صلوٰۃ میں آمین کہنا سنت ہے، اور اسے بلند آواز سے کہنا بھی سنت ہے، بدعت نہیں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
إِذَا أَمَّنَ الإِمَامُ فَأَمِّنُوا فَإِنَّهُ مَنْ وَافَقَ تَأْمِينُهُ تَأْمِينَ المَلائِكَةِ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو، کیونکہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے موافق ہو گئی، اس کے پچھلے گناہ بخش دیے جائیں گے۔
صحيح البخاري – كتاب الأذان – باب جهر الإمام بالتأمين:حدیث 780
اسی طرح فرمایا کہ
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا قَرَأَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ قَالَ آمِينَ حَتَّى يَسْمَعَ مَنْ يَلِيهِ مِنَ الصَّفِّ الأَوَّلِ
رسول اللہ ﷺ جب سورہ فاتحہ کے آخر میں وَلَا الضَّالِّينَ پڑھتے تو اتنی بلند آواز سے آمین کہتے کہ پہلی صف والے سن لیتے۔
سنن أبي داود – كتاب الصلاة – باب التأمين وراء الإمام:حدیث 934
لہذا صلوٰۃ میں بلند آواز سے آمین کہنا رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، اسے بدعت کہنا درست نہیں۔