کیا حسینؓ کا قیام شرعی تھا؟

حسینؓ کا قیام خالص نیت اور حق پسندی پر مبنی تھا، کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے تربیت یافتہ صحابی تھے اور رسول اللہ ﷺ کے نواسے تھے۔ ان کے قیام کا مقصد امت کو عدل، دیانت اور تقویٰ کی طرف بلانا تھا، لیکن یہ ایک سیاسی اجتہادی اختلاف کی نوعیت رکھتا تھا۔ وہ کوفہ کے لوگوں کی دعوت پر نکلے اور اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اقدام فرمایا۔ اس میں ان کی نیت خالص تھی، لیکن نتائج اس اجتہادی فیصلے کے مطابق مختلف نکلے کہ کوفہ والے دھوکہ دے رہے تھے۔

انہی کوفہ کے لوگوں کی غداری نے اس راستے کو مشکل بنایا، مگر یہ بات حسینؓ کی گویا اہلِ ایمان کے لئے نصیحت ہے کہ کبھی جھوٹے وعدوں اور وقتی سیاست پر اعتماد نہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَلَا تَرْكَنُوا إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ
اور ظالموں کی طرف نہ جھکنا ورنہ آگ تمہیں چھو لے گی۔ھود: 113

کوفہ کے لوگوں نے وعدہ خلافی اور جھوٹ سے اس آیت کی عملی تصویر دکھائی۔ نہ یزیدؒ نے ان سے جنگ کی نہ انکو قتل کروایا انہ انکے قتل پر راضی تھے۔

نبی ﷺ نے فرمایا
الْمُؤْمِنُ لَا يُلْدَغُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ
مومن ایک ہی سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔
صحيح البخاري – كتاب الأدب – باب لا يلدغ المؤمن من جحر مرتين:6133

یہی وجہ ہے کہ اہلِ ایمان کو حسینؓ کے واقعے سے یہ نصیحت ملتی ہے کہ دھوکے بازوں پر اعتماد نہ کریں۔

چنانچہ حسینؓ کا قیام نیک نیتی اور اخلاص پر مبنی تھا، اس کے مقابلے میں یزید بن معاویہؓ کو وہ معاذاللہ کافر و مشرک یا فاسق و فاجر نہیں کہتے تھے، عبداللہ بن عمر جیسے متعدد جلیل القدر صحابہ کرام نے یزید بن معاویہؒ کے ہاتھ پر بیعت کی اور کہا کہ ہم نے اللہ اور اسکے رسول کی وجہ سے بیعت کی ہے اور فرمایا کہ

أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَی بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ
اور ہم نے اس شخص  یزیدؒ  کی بیعت، اللہ اور اس کے رسول کے نام پر کی ہے۔
صحيح البخاري – كتاب الفتن – باب إذا قال عند قوم شيئا ثم خرج فقال بخلافه:7111

لہذا حق عقیدہ یہی ہے کہ حسینؓ حق پر تھے، ان کی نیت نیک تھی، لیکن یہ اختلاف اجتہادی تھا۔ اور یزید کے لئے بھی ہم رحمت کے طالب ہیں کہ وہ بھی مغفور تابعی ہیں، اور دونوں کے فیصلے اللہ کے عدل و فضل کے سپرد ہیں۔

تلاش کریں