معاویہ رضی اللہ عنہ کی صحابیت ایک واضح تاریخی اور شرعی حقیقت ہے۔ انکے متعلق متعدد احادیث میں نبی ﷺ نے انہیں دعا کے لیے منتخب فرمایا، مثلاً
اللّٰہُمَّ اجْعَلْهُ هَادِیًا مَّهْدِیًّا وَاهْدِ بِهِ
اے اللہ! اسے ہادی (رہنمائی کرنے والا) اور مہدی (ہدایت یافتہ) بنا دے اور اس کے ذریعے لوگوں کو ہدایت عطا فرما۔
(سنن الترمذی 3842)
عذاب سے حفاظت کی دعا فرمائی کہ
اللّٰہُمَّ عَلِّمْ مُعَاوِیَۃَ الْكِتَابَ وَالْحِسَابَ وَقِهِ الْعَذَابَ
اے اللہ! معاویہ رضی اللہ عنہ کو علمِ کتاب و حساب عطا فرما اور اسے عذاب سے محفوظ رکھ۔
(مسند احمد، جلد6، حدیث 17152)
یہ واضح کرتا ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے صحابی ہیں اور اس سے انکار نصوص کا رد و ہٹ دھرمی ہے۔ شکوک و شبہات و غلط فہمیاں پھیلانا جائز نہیں جیسے ان کی صحابیت پر شک کرنا، یا بے بنیاد الزامات لگانا یہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہیں۔