کیا ہر مسلمان پر تبلیغ فرض ہے؟

جی ہاں، اسلام میں ہر مسلمان پر اپنی استطاعت کے مطابق تبلیغ فرض ہے، لیکن یہ فریضہ کی دو درجے ہیں

فرضِ عین (ہر فرد پر لازم)
ہر مسلمان پر اپنی ذات، گھر والوں اور قریبی لوگوں کو دین کی بات پہنچانا ضروری ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا
بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً
میری طرف سے (لوگوں تک دین کی بات) پہنچاؤ خواہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو۔
(صحیح بخاری، حدیث 3461)

فرضِ کفایہ (اجتماعی ذمہ داری)
دعوت و تبلیغ کو بڑے پیمانے پر، باقاعدہ علم اور حکمت کے ساتھ پھیلانا علما اور داعیان کی ذمہ داری ہے۔ قرآن میں ہے کہ
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُو۟لَـٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
(آل عمران 104)

ہر مسلمان اپنی استطاعت کے مطابق دین کی بات دوسروں تک پہنچائے، جبکہ باقاعدہ اور وسیع دعوت کا کام علما و داعیان پر فرضِ کفایہ ہے۔

تلاش کریں