کیا کفر کے فتوے دین کی خدمت ہیں؟

اپنے اپنے خود ساختہ کفر کے فتوے اصل میں دین کی خدمت نہیں بلکہ دین کو ٹکڑوں میں بانٹنے کا ذریعہ بنتے ہیں جب وہ ذاتی رائے، تعصب یا گروہی مفاد پر مبنی ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا
جو تمہیں سلام کرے اسے یہ نہ کہو کہ تو مؤمن نہیں ہے۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ کسی مسلمان کو محض گمان یا اختلاف کی بنیاد پر کافر کہنا اللہ کے حکم کے خلاف ہے۔
(النساء: 94)

نبی ﷺ نے سختی سے تنبیہ کی کہ
أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ: يَا كَافِرُ ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا

اگر کوئی شخص اپنے بھائی کو کہے اے کافر! تو ان دونوں میں سے ایک پر وہ لوٹ جاتی ہے۔ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ اپنی رائے یا غصے کی بنیاد پر کفر کے فتوے لگانا خود ایمان کے لیے خطرہ ہے۔

صحيح البخاري – كتاب الأدب – باب من كفر أخاه بغير تأويل فهو كما قال:6104

صحابہ کرامؓ کا طرزِ عمل یہ تھا کہ وہ عقیدہ اور دین کے مسائل میں قرآن و سنت کو بنیاد بناتے تھے، نہ کہ اپنے تعصب یا اختلاف کو۔ جو فتوے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے واضح حکم پر مبنی ہوں اے کھول کھول کر بیان کرنا کواہ کوئی ناراض ہو مخالف ہو یہ دین کی خدمت ہے، لیکن جو فتوے اپنی مرضی، سیاست یا فرقہ واریت سے دیے جائیں وہ دین کے نام پر گمراہی ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَإِذْ أَخَذَ اللَّهُ مِيثَاقَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَتُبَيِّنُنَّهُ لِلنَّاسِ وَلَا تَكْتُمُونَهُ
اور جب اللہ نے اہلِ کتاب سے عہد لیا کہ تم اس (کتاب) کو ضرور لوگوں کے سامنے بیان کرو گے اور اسے نہ چھپاؤ گے۔
(آل عمران 187)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کا حکم اور فتویٰ لوگوں تک پہنچانا ایک ذمہ داری ہے، اور اسے چھپانا گناہ ہے۔ اسی لیے علماء حق کا منصب یہی ہے کہ وہ اللہ کے احکام کو اصل حالت میں لوگوں تک پہنچائیں، بغیر کمی بیشی اور خواہشات کے دباؤ کے۔

دین کی خدمت اسی وقت حقیقی ہوتی ہے جب فتویٰ قرآن و سنت کی روشنی میں دیا جائے، نہ کہ ذاتی رائے یا فرقہ وارانہ سوچ کے مطابق۔ صحابہ کرامؓ اسی خدمت میں زندگی گزار گئے، لوگوں کو اللہ کا حکم بتایا اور دین کی اصل صورت محفوظ رکھی۔ آج کے دور میں بھی اگر مسلمان ایمانداری کے ساتھ اللہ کے فتوے لوگوں تک پہنچائیں تو یہ گمراہی، بدعات اور خود ساختہ دین کے خاتمے کا ذریعہ ہوگا۔ یہی حقیقی خدمت ہے کہ لوگوں کو بتایا جائے کہ اللہ کا حکم کیا ہے اور رسول ﷺ کی سنت کیا ہے۔

تلاش کریں