کیا کسی صحابی کی توہین انسان کو کافر بنا دیتی ہے؟

صحابہ کرامؓ کے ایمان و عدل پر کسی طرح کی گنجائش نہیں ہے، کیونکہ ان کی تزکیہ و تعریف خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمائی ہے

لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ
بے شک اللہ مومنوں سے راضی ہوا جب وہ درخت کے نیچے آپ ﷺ سے بیعت کر رہے تھے۔
(الفتح 18)

اسی طرح فرمایا کہ
وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ
ترجمہ: اور سبقت لے جانے والے پہلے مہاجر اور انصار اور وہ لوگ جو ان کے پیچھے نیکی کے ساتھ چلے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔
(التوبہ 100)

ان آیات سے ظاہر ہے کہ ان کے ایمان و عدل پر کسی شک گنجائش ہی نہیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي ، فَلَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا ، مَا بَلَغَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ .
میرے صحابہ کو برا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی ان کے ایک مُد یا آدھے مُد کے برابر نہیں ہو سکتا۔
صحيح البخاري – كتاب فضائل الصحابة – باب حدثنا الحميدي ومحمد بن عبد الله:3673

لہٰذا یہ طے شدہ ہے کہ صحابہ کرامؓ ایمان و عدل کے معیار پر ہیں، ان پر زبان درازی یا ایمان میں شک ڈالنا دین کے اصول کے خلاف ہے جو کفر تک لے جاتا ہے۔

تلاش کریں