کیا کسی امام یا پیر کی اندھی تقلید کرنا کیسا ہے؟

اگر کوئی شخص امام، پیر یا بزرگ کی بات کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم پر مقدم کر لے، تو یہ عمل شرک اور گمراہی ہے، کیونکہ حقیقی اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے مخصوص ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
اتَّخَذُوْا اَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَالْمَسِيْحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا اُمِرُوْا اِلَّا لِيَعْبُدُوْٓا اِلٰهًا وَّاحِدًا لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ سُبْحَانَهٗ عَمَّا يُشْرِكُوْنَ
انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا رب بنا لیا، اور مسیح ابن مریم کو بھی، حالانکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔
(سورۃ التوبہ: 31)

یہ طرزِ عمل دراصل بندگی کو مخلوق کی طرف پھیرنے کے مترادف ہے۔ اسلام میں ہر امام یا عالم کی اطاعت قرآن و سنت کی پابندی کے ساتھ مشروط ہے، اور اگر کسی کی بات اللہ اور رسول ﷺ کے حکم کے خلاف ہو، تو اسے ماننا گمراہی بلکہ شرک ہے۔ مومن کا عقیدہ یہ ہونا چاہیے کہ قولِ امام یا فرمانِ استاذ تب ہی معتبر ہے جب وہ قولِ اللہ و رسول ﷺ کے مطابق ہو۔

تلاش کریں