جو عمل یا قول غیر اللہ کے نام یا نسبت سے کیا جائے، قرآن کے الفاظ میں اس کی مکمل ممانعت موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَمَا أُحِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ
اور جس پر غیر اللہ کا نام بلند کیا گیا۔(البقرۃ، 173)
یعنی جو کچھ بھی اللہ کے سوا کسی اور کے لیے مخصوص کیا گیا ہے، وہ حرام ہے۔ یہاں لفظ (مَا) عام ہے، یعنی ہر چیز شامل ہے۔ اعمال، قربانیاں، نذر، دعائیں، رسومات، اور حتی کہ زبان سے کہے گئے الفاظ بھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بول دے کہ (میں فلاں کے قبر کے اوپر چادر چڑھاؤں گا) یا (فلان کے لیے چراغ جلاؤں گا) تو یہ بھی اسی حکم کے تحت آتا ہے اور حرام ہے، کیونکہ نیت اور قول دونوں غیر اللہ کے لیے مخصوص ہو گئے ہیں۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے ہمیشہ عبادت، نذر، قربانی اور دعائیں خالص اللہ کے لیے رکھی۔ وہ کبھی کسی قبر، مزار یا ولی کی نسبت سے چادر چڑھانے یا چراغ جلانے کا ارادہ نہیں کرتے تھے، کیونکہ یہ عمل عبادت کی خالصت کو خراب کر دیتا ہے اور غیر اللہ کی نظر کے لیے شمار ہوتا ہے۔ اس اصول کی روشنی میں ایسے الفاظ یا ارادے شرعاً باطل اور حرام ہیں، اور حتی کہ لفظی جملہ بولنا بھی اس حکم سے خارج نہیں ہے۔
نبی ﷺ نے بھی بار بار اس بات کی تاکید فرمائی کہ عبادت، نذر اور قربانی صرف اللہ کے لیے ہوں، اور کسی مخلوق، قبر یا ولی کے نام پر نہ کی جائیں۔ اس بنا پر غیر اللہ کے نام پر کچھ کرنے کا قول، چاہے وہ محض لفظ ہی ہو، توحید کے اصول کے خلاف اور گناہ ہے۔ یہی وہ واضح حدود ہیں جو قرآن اور سنت کی روشنی میں ہر مسلمان کے لیے لازمی ہیں۔