نبی کریم ﷺ کے بعد دین میں کسی بھی قسم کا اضافہ ممکن نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے دین کو مکمل فرما دیا ہے۔ دین میں کسی نئی چیز کا اضافہ دراصل وحی کی تکمیل کے بعد نئی شریعت لانے کے مترادف ہے، جو کفر و ضلالت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا۔
(المائدہ 3)
یہ واضح اعلان ہے کہ دین مکمل ہوچکا ہے، اب اس میں کمی یا اضافہ ممکن نہیں۔
نبی ﷺ نے فرمایا
من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد
جس نے ہمارے اس دین میں کوئی نئی چیز نکالی جو اس میں سے نہیں، وہ مردود ہے۔
(صحیح بخاری 2697، صحیح مسلم 1718)
پس دین وہی ہے جو قرآن و سنت میں بیان ہوا۔ بعد میں کی گئی ہر نئی ایجاد یا اضافہ بدعت اور گمراہی ہے۔ امت کے لیے ہدایت صرف اسی دین میں ہے جو نبی ﷺ چھوڑ کر گئے۔