کیا نبی کو پکارنا عبادت ہے؟

اسلامی عقیدہ کے مطابق عبادت صرف اللہ کے لیے خاص ہے اور اس میں دعا، ندا (پکارنا)، مدد طلب کرنا اور حاجت روائی شامل ہے۔ کسی نبی یا ولی کو پکارنا، چاہے زندہ ہوں یا وفات پا چکے ہوں، عبادت کے زمرے میں آتا ہے اگر اس پکار میں غیبی مدد مانگی جائے، کیونکہ یہ عمل صرف اللہ کے لیے خاص ہے۔

قرآن میں فرمایا
وَأَنَّ ٱلۡمَسَـٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدۡعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدٗا
اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لئے ہیں، پس اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔
(الجن 18)

یہ واضح ہے کہ پکارنے کا عمل (دعاء و نداء) اللہ کے ساتھ خاص ہے، اور اگر کسی اور کو غیب سے مدد کے طور پر پکارا جائے تو وہ عبادت ہے اور شرک کے قریب ہے۔

جب صحابہ کرامؓ کو ضرورت پیش آتی تو وہ براہ راست اللہ کو پکارتے تھے۔ حتیٰ کہ غزوہ بدر کے موقع پر بھی نبی ﷺ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر صرف اللہ سے دعا کی، کسی سابقہ نبی یا فرشتہ کو نہیں پکارا۔

نبی ﷺ نے فرمایا
إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللَّهِ
جب مانگو تو اللہ سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ سے مدد چاہو۔
  سنن ترمذی: كتاب صفة القيامة والرقائق والورع عن رسول الله صلى الله عليه وسلم:2516 ۔

آج بعض لوگ یا رسول اللہ یا یا علی مدد کہہ کر پکارنے کو محض محبت یا تعظیم سمجھتے ہیں، لیکن چونکہ یہ عمل دعا و نداء کی شکل ہے، اس لیے یہ عبادت کے دائرے میں آتا ہے اور شرک کا سبب بنتا ہے۔ نبی ﷺ سے محبت و اتباع کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ ہم نبی ﷺ کی سنت کی پیروی کریں اور ہر ضرورت میں صرف اللہ کو پکاریں۔

تلاش کریں