کیا مردے دُعائیں سنتے ہیں یا صرف سلام کو خصوصی طور پر سنتے ہیں؟

قرآن نے مردوں کی سماعت کے بارے میں فیصلہ کن اصول یہ بیان کیا ہے کہ وہ کسی بھی آواز کو نہیں سنتے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ (النمل 80)
اس نص میں کوئی تخصیص نہیں، نہ دعا کی، نہ سلام کی، نہ کسی خاص موقع کی۔ امّ المؤمنین عائشہؓ نے اسی آیت سے یہ حکم اخذ کیا کہ مردے بالکل نہیں سنتے، اور انہوں نے سماعِ موتی کے ہر قول کو قرآن کے خلاف قرار دیا۔ اس میں دعا، سلام، فریاد، نذر، حاجت سب شامل ہیں، کیونکہ آیت عام ہے اور مردے کی عدمِ سماعت کو قطعی بیان کرتی ہے۔

نبی ﷺ اور صحابہؓ نے کبھی یہ عقیدہ نہیں رکھا کہ اہلِ قبور ہمارے سلام یا دعائیں سنتے ہیں۔ جو حدیث السلام علیکم اہل الدیار۔۔۔ پڑھی جاتی ہے، وہ سلام بطور دعا ہے، نہ کہ مردوں کے سننے کا۔ نہ نبی ﷺ نے کہا کہ وہ جواب دیتے ہیں، نہ صحابہؓ نے اس کا عقیدہ بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ بدر کے مقتولین سے خطاب والے واقعے کو قتادہؒ نے خصوصی معجزہ قرار دیا، عام حکم نہیں۔ اگرعام سماعت ثابت ہوتی تو وہ ام المومنین عائشہ اسے قرآن کے خلاف نہ سمجھتیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مردے صرف سلام سنتے ہیں، یا صرف کچھ مواقع پر سنتے ہیں، وہ بھی قرآن کے عام اور قطعی حکم کے خلاف جاتے ہیں۔ اگر ایک موقع پر سماعت مان لی جائے تو اس آیت کا عموم ٹوٹ جاتا ہے، اور شرک کے دروازے کھل جاتے ہیں کیونکہ پھر مردے سے دعا، فریاد، مشکل کشائی کی امید لگانا ممکن ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہؓ نے ہرگز یہ عقیدہ قائم نہیں کیا کہ مردہ سلام، دعا یا فریاد سنتا ہے۔

لہٰذا اصول واضح ہے مردہ نہ دعا سنتا ہے، نہ سلام سنتا ہے، نہ کوئی آواز سنتا ہے۔ کیونکہ قرآن نے مردوں کی سماعت کو نفی کے ساتھ قطعی طور پر رد کر دیا ہے۔ یہی فہمِ صحابہؓ ہے، یہی دینِ توحید ہے، اور یہی شرک کے دروازے بند کرنے والا اصول ہے۔

تلاش کریں