عقیدہ کا تعلق صرف اور صرف یقینی دلائل سے ہے، اس میں قیاس (اجتہادی رائے یا اندازہ) کی کوئی گنجائش نہیں۔ عقیدہ وہی معتبر ہے جو یا تو قرآن سے ثابت ہو یا پھر صحیح حدیث سے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
إِنْ يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا
وہ محض گمان کی پیروی کرتے ہیں، حالانکہ گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا۔
(النجم 28)
اس سے واضح ہے کہ عقیدہ گمان، قیاس یا رائے سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح نبی ﷺ نے بھی فرمایا کہ
إيّاكم والظن، فإن الظن أكذب الحديث
گمان سے بچو، کیونکہ گمان سب سے جھوٹی بات ہے۔
صحیح بخاری: كتاب الأدب: باب: {يا أيها الذين آمنوا اجتنبوا كثيرا من ۔۔۔:حدیث 6066
لہذا عقائد قیاس سے نہیں لیے جا سکتے، بلکہ صرف قرآن اور صحیح ثابت شدہ حدیث سے لیے جاتے ہیں۔