کیا قرآن و سنت کے مقابلے میں کسی شیخ، پیر یا امام کی بات مقدم رکھی جا سکتی ہے؟

ہرگز نہیں، قرآن و سنت کے مقابلے میں کسی شیخ، پیر یا امام کی بات کو مقدم رکھنا گمراہی اور شرک فی الطاعت ہے۔ اسلام میں حق کا معیار صرف وہ ہے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے فرمایا، باقی سب انسان خطا کے احتمال سے خالی نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُـقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ۝
اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول کے آگے  کسی کی بات یا حکم کو  مقدم نہ کرو، اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ الحجرات: 1

یہ آیت قطعی طور پر بتاتی ہے کہ نبی ﷺ کے فرمان سے پہلے کسی انسان کی بات کی کوئی حیثیت نہیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا

كُلُّ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ أَبَى قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَنْ يَأْبَى؟ قَالَ: مَنْ أَطَاعَنِي دَخَلَ الْجَنَّةَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ أَبَى

میری امت کے سب لوگ جنت میں جائیں گے سوائے ان کے جو انکار کریں۔ پوچھا گیا: یا رسول اللہ ﷺ! کون انکار کرے گا؟ فرمایا: جو میری اطاعت کرے وہ جنت میں جائے گا، اور جو میری نافرمانی کرے وہی انکار کرنے والا ہے۔
 صحيح البخاري – كتاب الاعتصام بالكتاب والسنة – باب الاقتداء بسنن رسول الله صلى الله عليه وسلم:7280

لہٰذا جو شخص کسی شیخ، امام یا پیر کی بات کو نبی ﷺ کے فرمان پر ترجیح دیتا ہے، وہ دراصل اتباعِ رسول سے ہٹ کر بندوں کی اطاعت کو عبادت بنا لیتا ہے۔ سچے اہلِ ایمان کی راہ وہی ہے جو صحابہؓ کی تھی  سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا یعنی ہم نے سنا اور مان لیا، خواہ بات ہمارے امام، گروہ یا روایت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

تلاش کریں