مرنے اور جینے کا فیصلہ انسانوں، قوموں یا قاتلوں کے ہاتھ میں نہیں، بلکہ صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے عیسیٰ علیہ السلام کی موت کے بارے میں وہی بات درست ہو سکتی ہے جو اللہ خود فرمائے۔ بنی اسرائیل نے عیسیٰؑ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، مگر اصل واقعہ ان کے منصوبے سے نہیں، اللہ کے فیصلے سے طے ہوا، اور یہی وہ بیانِ توحید ہے جسے قرآن بار بار بیان کرتا ہے۔
وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا
اور یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے، مسیح عیسی ابن مریم کو جواللہ کے پیغمبر ہیں ، حالانکہ نہ تو انہوں نے عیسی قتل کیا ہے، اور نہ سولی پر چڑھایا ہے، بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ ہو گیا تھا۔ جولوگ عیسی کے بارے میں اختلاف کے شکار ہیں ، یقیناوہ بھی اس بارے میں شک کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ، بلکہ وہم پرستی کے شکار ہیں ۔ یقینا انہوں نے عیسی کو قتل نہیں کیا،بلکہ اللہ تعالی نے اس کو اپنی طرف اٹھایا۔ اللہ تعالی زبردست اور حکمت والا ہے ۔
(النساء، 157، 158)
:یہ آیات اعلان کرتی ہیں کہ
عیسیٰؑ کو قتل نہیں کیا گیا، انہیں صلیب بھی نہیں دی گئی، یہ صرف ان کے گمان کا دھوکا تھا، اصل فیصلہ یہ تھا کہ اللہ نے انہیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ ان دونوں آیات میں بار بار یہی دکھایا گیا ہے کہ یہودی غالب نہیں آئے، اللہ غالب آیا
وَكَانَ اللّٰهُ عَزِيزًا حَكِيمًا؛ عزت والا، غالب، حکمت والا اللہ۔
نبی ﷺ نے اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔ اس وقت کا ایک سجدہ «دنيا وما فيها» سے بڑھ کر ہو گا۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو [وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا] اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰ کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔
(صحيح بخاری:كتاب أحاديث الأنبياء:حدیث: 3448)
یعنی عیسیٰؑ قیامت سے قبل واپس آئیں گے، جو اس بات کی صریح دلیل ہے کہ وہ قتل نہیں کیے گئے، نہ طبعی وفات پائی، بلکہ اللہ نے انہیں محفوظ رکھا۔
یہاں واضح ہو جاتا ہے کہ
جو گروہ عیسیٰؑ کی موت، صلیب یا قتل کو مانتے ہیں وہ قرآن کی قطعی نص کے خلاف جاتے ہیں، کیونکہ قرآن نے اس موضوع پر کوئی ابہام نہیں چھوڑا۔ اگر بنی اسرائیل انہیں قتل میں کامیاب ہو جاتے تو یہ اللہ کی مشیت کے خلاف ہوتا، جبکہ آیت خود اعلان کر رہی ہے اللہ اپنے فیصلے میں غالب ہے، دشمن کبھی غالب نہیں آ سکتا۔ زندگی اور موت کا مالک اللہ ہے۔عیسیٰؑ کے بارے میں بھی اس نے اپنے ہاتھ سے فیصلہ فرمایا، اور اس پر کسی قوم، کسی قاتل، کسی سازش، حتیٰ کہ کسی نبی کی ذات کا بھی اختیار نہیں۔ عیسیٰؑ کی موت، زندگی، اُٹھایا جانا اور دوبارہ نزول۔۔۔ یہ سب اللہ کی حکمت، اس کی قدرت اور اس کی بادشاہی کے فیصلے ہیں، جن پر ایمان رکھنا ہی توحیدِ خالص کا تقاضا ہے۔