کیا عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کیا گیا؟

قرآن میں عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں قتل یا صلیب کا دعویٰ کے بارے میں صاف صاف وضاحت موجود ہے۔ قرآن نے یہودیوں کے اس قتل کے بڑے دعوے کو نہ صرف جھٹلایا بلکہ ان پر اللہ کے غلبے کا اعلان کیا۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ مَا لَهُمْ بِهٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوْهُ يَقِيْنًۢا۝ بَلْ رَّفَعَهُ اللّٰهُ اِلَيْهِ ۭوَكَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِـيْمًا ۝

اور یہ کہنے کی وجہ سے کہ ہم نے قتل کیا ہے، مسیح عیسی ابن مریم کو جواللہ کے پیغمبر ہیں ، حالانکہ نہ تو انہوں نے عیسی قتل کیا ہے، اور نہ سولی پر چڑھایا ہے، بلکہ معاملہ ان پر مشتبہ ہو گیا تھا۔ جولوگ عیسی کے بارے میں اختلاف کے شکار ہیں ، یقیناوہ بھی اس بارے میں شک کرتے ہیں ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ، بلکہ وہم پرستی کے شکار ہیں ۔ یقینا انہوں نے عیسی کو قتل نہیں کیا،بلکہ اللہ تعالی نے اس کو اپنی طرف اٹھایا۔ اللہ تعالی زبردست اور حکمت والا ہے ۔
(النساء، 157، 158)

یہ تین باتیں زبردست اعلان ہیں
قتل نہیں ہوا, صلیب نہیں ہوئی,اصل حقیقت اللہ نے ان سے چھپا دی.

پھر اللہ نے فیصلہ کھول کر بیان کیا
بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ
بلکہ اللہ تعالی نے اس کو اپنی طرف اٹھایا.
(النساء، 158)

یعنی یہودی غالب نہیں آئے، اللہ غالب آیا۔ انہوں نے قتل کرنا چاہا، مگر اللہ نے اپنی قدرت سے انہیں شکست دے دی اور اپنے رسول کو اٹھا لیا۔
اور جس نبی کو اللہ نے خود اٹھا لیا ہو، وہ دشمنوں کے ہاتھوں کیسے مر سکتا ہے؟ یہ کہنا توحید کے اصول کے خلاف ہے، کیونکہ اس میں یہ معنی نکلتا ہے کہ اللہ اپنے رسول کو بچا نہ سکا۔ جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ فرمایا کہ

وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ ۚ وَيَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا۝
اور نہیں ہے کوئی اہل کتاب میں سے مگر وہ ضرور اس پر موت سے قبل ایمان لائے گا اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہونگے۔
(النساء، 159)

نبی ﷺ نے حدیث میں فرمایا
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، وہ زمانہ قریب ہے کہ عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام تمہارے درمیان ایک عادل حاکم کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب کو توڑ دیں گے، سور کو مار ڈالیں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے۔ اس وقت مال کی اتنی کثرت ہو جائے گی کہ کوئی اسے لینے والا نہیں ملے گا۔ اس وقت کا ایک سجدہ «دنيا وما فيها» سے بڑھ کر ہو گا۔ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر تمہارا جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو [وإن من أهل الكتاب إلا ليؤمنن به قبل موته ويوم القيامة يكون عليهم شهيدا‏] اور کوئی اہل کتاب ایسا نہیں ہو گا جو عیسیٰ کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لائے اور قیامت کے دن وہ ان پر گواہ ہوں گے۔
(صحيح بخاری:كتاب أحاديث الأنبياء:حدیث: 3448)

جو نبی دوبارہ نازل ہوگا، وہ فوت شدہ میں سے نہیں ہو سکتا۔ یہ انہی کے زندہ ہونے اور اللہ کی حفاظت کا ثبوت ہے۔

تلاش کریں