کیا طاغوت کے انکار کے بغیر لا إله إلا الله مکمل ہو سکتا ہے؟

توحید کا مفہوم صرف اللہ کی عبادت کا اقرار نہیں بلکہ ہر طاغوت کے انکار ہے اس کے بغیر لا إله إلا الله کا کلمہ مکمل نہیں ہوتا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انفِصَامَ لَهَا ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
پس جو طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لائے تو اس نے ایک مضبوط کڑا تھام لیا جس کا ٹوٹنا ممکن نہیں۔
(البقرۃ: 256)

ایمان دو حصوں پر قائم ہے، ایک طاغوت کا انکار، اور دوسرا اللہ پر خالص ایمان۔ اگر کوئی شخص اللہ پر ایمان کا دعویٰ کرے مگر طاغوت کی اطاعت، اس کے قوانین یا اس کے نظام کو تسلیم کرے، تو وہ دراصل لا إله إلا الله کی حقیقت کو نہیں مانتا۔ لہٰذا ایمانِ خالص اسی وقت حاصل ہوتا ہے جب انسان نہ صرف اللہ کو معبودِ برحق مانے بلکہ ہر باطل معبود، نظام، اور قوتِ طاغوت سے مکمل براءت اختیار کرے، یادرہے کہ ہر وہ چیز طاغوت ہے جو اللہ کی راہ میں رکاوٹ بنے، یہی ایمانِ خالص اور نجات کی بنیاد ہے۔

تلاش کریں