کیا شرک کا تعلق صرف عبادت سے ہے؟

شرک صرف عبادت تک محدود نہیں، بلکہ انسان کی زندگی کے ہر پہلو میں ہو سکتا ہے۔ قرآن نے شرک کو سب سے بڑا ظلم کہا ہے

إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ
یقیناً شرک بہت بڑا ظلم ہے۔
(لقمان: 13)

یہ واضح کرتا ہے کہ شرک صرف اللہ کے ساتھ عبادت میں شریک کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ کے حق میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا ہے، چاہے وہ اطاعت ہو، محبت ہو، خوف ہو یا رزق کا عقیدہ۔ سابقہ امتیں صرف عبادت کے جھوٹے طریقوں سے نہیں بلکہ قانون سازی اور اطاعت میں بھی شرک کرتی تھیں۔

نبی ﷺ نے فرمایا کہ
اللہ کی لعنت ہو اُس پر جو غیر اللہ کے نام پر ذبح کرے۔
(صحیح مسلم، حدیث: 1978)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذبح جیسے معاملات میں بھی شرک ہو سکتا ہے، محض رکوع و سجدہ کے ظاہری افعال میں نہیں۔

آج کے دور میں بھی اگر کوئی اللہ کی ذات میں کسی کو حصہ دار بنائے اور اسکی صفات مخلوق میں تقسیم کرے یا اللہ کے حکم کو چھوڑ کر غیر اللہ کی اطاعت کو حلال و حرام کے درجے میں مانے، یا مزاروں پر جا کر مدد اور رزق کا عقیدہ رکھے، تو یہ سب بھی شرک ہے۔

اصل توحید یہ ہے کہ عبادت، محبت، خوف، امید، اطاعت، قانون سازی وغیرہ ہر چیز صرف اللہ کے لیے ہو۔ یہی صحابہ کرامؓ کا فہم تھا اور یہی راستہ نجات کا ہے۔

تلاش کریں