قرآن نے عقیدۂ توحید کی بنیاد یہ رکھی ہے کہ زندہ اور مردہ کے اختیار و سمع میں کوئی قدر مشترک نہیں۔اللہ تعالیٰ نے فرمایاإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ تو آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔(النمل 80)یہ عبارت غیر مبہم اور عقیدے کی اصل کو بیان کرتی ہے کہ موت کے بعد مخلوق کی سمع و شعور اس دنیا کے نظام سے منقطع ہو جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی بات کو اصول کے طور پر بیان کرے، اور اس کا تعلق براہِ راست اللہ کی الوہیت اور مخلوق کی صفاتِ نقص سے ہو، تو وہ مسئلہ فروعی نہیں رہتا بلکہ عقیدہ بن جاتا ہے۔
صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ نے توحید کے باب میں مخلوق پر کسی غیر معمولی سماعت یا اختیار کی نسبت سے سختی سے باز رہے، اور اسی کی دلیل بدر کے مردوں سے خطاب کے واقعے میں موجود ہے، اس کو اسی آیت النمل 80 سے دلیل لے کر مردوں کی سماعت کی نفی کی اور اسکو معجزہ قرار دیا۔ (صحيح بخاري:كتاب المغازی:باب قتل أبى جهل: ، 3980 ، 3976)، یعنی یہ سماعت عام و مستقل نہیں کہ سب مردے سنتے ہیں بلکہ اللہ کی طرف سے مخصوص اور عارضی بطور معجزہ سماعت ہے، اسی لیے صحابہؓ نے اسے عقیدہ نہیں بنایا، نہ اس سے عام حکم نکالا۔ یہی امتیاز ظاہر کرتا ہے کہ سماع موتیٰ کا عقیدہ رکھنا اصلِ دین کے خلاف ہے۔
موجودہ دور میں بعض لوگ اسے فروعی مسئلہ کہہ کر معاملہ کو ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر مردوں کے لیے سماعت مان لی جائے تو اس کا لازم یہ نکلتا ہے کہ وہ غیب جان لیتے ہیں، دعائیں سن سکتے ہیں، حاجت روائی میں شریک ہو سکتے ہیں، اور یہ سب شرک کے دروازے ہیں جن سے قرآن نے سختی سے روکا ہے۔ صحابہؓ کے فہم میں کبھی یہ بات اصولاً ثابت نہ تھی، نہ انہوں نے قبروں سے خطاب، فریاد یا سننے کی نسبت کو دین کا حصہ سمجھا۔ یہ توحید کی حفاظت کا عین تقاضا ہے کہ مردہ، قبر، ولی یا نبی کو بعد از وفات سماعت کا حق نہ دیا جائے۔ یہی راست دین ہے۔