کسی بھی نبی کے معجزات میں نہ انکی ذاتی قدرت شامل ہوتی تھی، نہ انکی مرضی سے وہ ظاہر ہوتے تھے۔ ہر معجزہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے حکم، اذن اور مشیت سے نبی کے ہاتھ سے ظاہر ہوتے تھے، انبیاء اسکے خالق اور فاعل نہیں ہوتے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ
کوئی رسول کسی نشانی (معجزے) کو نہیں لا سکتا مگر اللہ کے اذن سے۔
(غافر: 78)
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ يُوحَىٰ إِلَيَّ أَنَّمَا إِلَٰهُكُمْ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ
آپ کہ دیں میں تو تمہارے ہی جیسا ایک انسان ہوں (ہاں) مجھ پر وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (حقیقی) ایک ہی معبود ہے۔
(الکھف:110)
نبی ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں، ان کے ہاتھ پر جو خارقِ عادت امور ظاہر ہوئے، وہ اللہ کی قدرت کے مظاہر تھے، نہ کہ آپ ﷺ کی ذاتی طاقت یا ارادہ تھا۔
توحید کا تقاضا یہی ہے کہ معجزے کو نبی ﷺ کی نبوت کی صداقت کی دلیل مانا جائے، قدرت کا منبع صرف اللہ کو سمجھا جائے۔ اگر کوئی شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبی ﷺ خود سے معجزہ دکھا سکتے ہیں، تو وہ شرک میں چلا جاتا ہے۔