کیا خلافت کا تعین نص سے ہونا چاہیے یا شوریٰ سے؟

اسلام میں خلافت کا تعین نص (یعنی وحی سے فرد کی نامزدگی) سے نہیں بلکہ شوریٰ اور بیعت سے ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی میں کسی شخص کو صریح نص سے خلیفہ مقرر نہیں فرمایا، بلکہ امت کو اصول دے گئے کہ قیادت مشاورت اور اہلِ حل و عقد کی بیعت سے طے ہوگی۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ
اور ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔(الشورى: 38)

اور خلیفہ کا اصل مقصد دین کے قیام کے ساتھ عدل کا نفاذ ہے۔ فرمایا کہ
اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَھْلِھَا ۙ وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهٖ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا
بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔ (النساء: 58)

نبی ﷺ کے بعد صحابہ کرامؓ نے بھی یہی طریقہ اپنایا۔
ابوبکر صدیقؓ کو سقیفہ بنی ساعدہ میں شوریٰ کے ذریعے منتخب کیا گیا۔
عمرؓ کو ابوبکرؓ نے اپنی وصیت اور اہلِ حل و عقد کے مشورے سے مقرر کیا۔
عثمانؓ کو چھ رکنی شوریٰ کے ذریعے چنا گیا۔
علیؓ کو مدینہ کے بڑے صحابہؓ کی بیعت سے خلیفہ بنایا گیا۔

اگر خلافت کا تعین نص سے ہونا ضروری ہوتا تو نبی ﷺ کسی ایک کو واضح طور پر خلیفہ نامزد فرما دیتے، لیکن آپ ﷺ نے امت کو مشاورت اور بیعت کا نظام دے کر چھوڑا۔ لہذا خلافت کا تعین شریعت کے اصول یعنی شوریٰ اور بیعت سے ہونا چاہیے، نہ کہ کسی دعوے دار نص یا خاندانی وراثت سے۔ یہی صحابہؓ کا اجماعی طریقہ اور صراطِ مستقیم ہے۔

تلاش کریں